اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف سخت ترین حملے ابھی باقی ہیں اور آئندہ دنوں میں کارروائیوں میں شدت آ سکتی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی موجودہ امریکی فوجی کارروائی کا باضابطہ ہدف نہیں ہے، تاہم اگر ایرانی عوام خود کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو امریکا اسے خوش آئند سمجھے گا۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا کی مکمل توجہ ایران کے میزائل پروگرام، ان کی تیاری کی صلاحیت اور بحری طاقت کو غیر مؤثر بنانے پر مرکوز ہے۔ ان کے مطابق بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی اقدامات خطے میں توازن برقرار رکھنے اور اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حکمت عملی محدود اور مخصوص اہداف تک مرکوز ہے۔ ان کے مطابق زمینی افواج ایران بھیجنے کی کوئی تیاری نہیں کی گئی اور نہ ہی ایسا کوئی فیصلہ زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا خطے میں کشیدگی کو غیر ضروری حد تک بڑھانا نہیں چاہتا، تاہم اپنے سکیورٹی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ایران کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا اس لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے تاکہ خطے میں طاقت کا توازن بگڑنے نہ پائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے میزائل نظام اور بحری سرگرمیاں نہ صرف خطے بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی تشویش کا باعث سمجھی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن دباؤ کی حکمت عملی کو مزید سخت کر سکتا ہے، تاہم زمینی جنگ سے گریز کا اعلان خطے میں کسی بڑی براہ راست جنگ کے امکانات کو وقتی طور پر محدود کرتا ہے۔ صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور عالمی برادری کی نظریں آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔