اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی
کارروائیوں کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، تاہم یہ مؤقف “افسوس کے ساتھ” اختیار کیا گیا ہے اور بظاہر یہ حملے بین الاقوامی قانون سے متصادم دکھائی دیتے ہیں۔آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی نظام کی ناکامی کی ایک اور مثال ہے، جس کا انہوں نے جنوری میں ڈیووس میں اپنے خطاب کے دوران بھی ذکر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا ایران کے جوہری پروگرام اور مبینہ دہشت گرد سرگرمیوں کو بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے بڑا خطرہ سمجھتا ہے، اسی محدود تناظر میں امریکا اور اسرائیل کے اقدامات کی حمایت کی گئی۔
مارک کارنی نے واضح کیا کہ کینیڈا کو ہفتے کے روز ایران پر حملے سے قبل پیشگی اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ہی شرکت کی دعوت دی گئی۔ ان کے بقول، “ابتدائی طور پر یہ اقدامات بین الاقوامی قانون سے مطابقت نہیں رکھتے دکھائی دیتے ہیں۔” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ حمایت “کھلی چھوٹ” نہیں ہے اور نہ ہی کینیڈا اس جنگ میں شریک ہے۔امریکی صد ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے جواز پر مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔ امریکا نے ایران کے جوہری عزائم اور میزائل پروگرام کو خطرہ قرار دیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا ایران فوری طور پر کسی حملے کی تیاری کر رہا تھا یا نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں ایران میں نظام کی تبدیلی کی بات بھی کر چکے ہیں، اگرچہ حالیہ دنوں میں ان بیانات میں نرمی دیکھی گئی ہے۔
مارک کارنی نے کہا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو فوری خطرہ نہیں سمجھتے، تاہم جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران کو انہوں نے “سب سے بڑا خطرہ” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “کوئی بھی پرامن جوہری پروگرام ایک میل زمین کے نیچے دفن نہیں ہوتا”، البتہ انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں تمام خفیہ معلومات تک رسائی حاصل نہیں۔اگرچہ انہوں نے خلیجی ممالک پر ایران کے حملوں اور شہری ہلاکتوں کی مذمت کی، تاہم امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں پر براہِ راست تنقید سے گریز کیا اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کا احترام کریں۔کینیڈا کی وزیرِ خارجہ **انیتا آنند** نے ٹورنٹو بورڈ آف ٹریڈ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کی پالیسی “عملیت پسندی” پر مبنی ہے اور اس کا بنیادی مقصد خطے میں موجود تقریباً ایک لاکھ کینیڈین شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور کینیڈا سفارتی حل کا خواہاں ہے۔
مارک کارنی نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ کینیڈا فوری کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کرتا ہے اور سفارتی کوششوں میں مدد کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق اس بحران کا پائیدار حل وسیع سیاسی مفاہمت اور مؤثر سفارتی روابط کے ذریعے ہی ممکن ہے، تاکہ جوہری پھیلاؤ اور دہشت گردی کے خطرات کا مستقل خاتمہ کیا جا سکے۔