اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا پوسٹ کے ملازمین کی حالیہ ہڑتال کے بعد وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا ہے یہ ادارہ موجودہ حالات میں ’’قابلِ عمل‘‘ نہیں رہا۔
ادارے کی بقا کے لیے بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔ایک پریس کانفرنس کے دوران کارنی نے واضح کیا کہ کینیڈا پوسٹ روزانہ دس ملین ڈالر سے زائد کا خسارہ کر رہی ہے، جو مسلسل ادارے کو نقصان کی طرف دھکیل رہا ہے۔
وزیرِاعظم کے مطابق وفاقی حکومت نے رواں سال ایک ارب ڈالر کی امداد فراہم کر کے کینیڈا پوسٹ کو عارضی سہارا دیا، تاہم 2025 کی دوسری سہ ماہی میں ہی ادارہ 407 ملین ڈالر کے خسارے میں چلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایسے اقدامات تجویز کیے ہیں جن سے ادارے کے اخراجات میں نمایاں کمی ہو سکے اور مستقبل میں اسے پائیدار بنایا جا سکے۔
حکومت کی مجوزہ اصلاحات میں غیر ہنگامی میل کو فضائی کے بجائے زمینی راستوں سے منتقل کرنے کی تجویز، تقریباً 40 لاکھ گھروں کو کمیونٹی میل بکس میں منتقل کرنا، اور دیہی ڈاک خانوں پر عائد 30 سالہ پابندی کو ختم کرنا شامل ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ تبدیلیاں کئی دہائیوں سے جاری رکاوٹوں کو دور کریں گی۔دوسری جانب، کینیڈین یونین آف پوسٹل ورکرز (CUPW) نے ان تجاویز کو ’’عوامی ڈاک کے ادارے پر براہِ راست حملہ‘‘ قرار دیا ہے۔ یونین کی صدر جین سمپسن کے مطابق حکومت نے عوامی مشاورت کیے بغیر بڑے پیمانے پر سروس کٹوتیوں کا اعلان کیا ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو فوری طور پر یہ اقدامات روکنے ہوں گے اور کسی بھی فیصلے سے پہلے عوام کو اپنی رائے دینے کا موقع دینا چاہیے۔
یونین کا مزید کہنا ہے کہ کمیونٹی میل بکس کے نفاذ سے دور دراز علاقوں کے عوام کو میل لینے کے لیے طویل فاصلہ طے کرنا پڑے گا، جس سے معمر اور معذور افراد کو شدید مشکلات پیش آئیں گی۔ ساتھ ہی یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس پالیسی سے جائیدادوں کی قیمتوں میں کمی اور مقامی برادریوں کے لیے سیکیورٹی خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔میک ماسٹر یونیورسٹی کے پروفیسر مارون رائیڈر نے کہا ہے کہ اگرچہ ان اقدامات سے ادارہ مکمل طور پر خسارے سے نہیں نکلے گا، تاہم سالانہ پانچ سے چھ سو ملین ڈالر کی بچت ممکن ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق یونین اس لیے ہڑتال پر ہے کہ اصلاحات کے نفاذ کا سب سے بڑا اثر ملازمین کی تعداد میں کمی کی صورت میں سامنے آئے گا۔