اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وفاقی سرکاری نظام میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین کو نوٹس موصول ہوئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ان کی نوکریاں ختم کی جا سکتی ہیں، جن میں سے بڑی تعداد کو یہ نوٹس گزشتہ ہفتے کے دوران دیے گئے۔
پبلک سروس الائنس آف کینیڈا (PSAC) کے مطابق، صرف گزشتہ ہفتے اس کے 1,775 اراکین کو ورک فورس ایڈجسٹمنٹ نوٹس جاری کیے گئے۔ یونین کا کہنا ہے کہ نومبر میں وفاقی بجٹ کے اعلان کے بعد سے اب تک اس کے 2,273 اراکین کو ایسے نوٹس مل چکے ہیں۔
یونین کے مطابق یہ ملازمین مختلف محکموں اور اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں پبلک سروسز اینڈ پروکیورمنٹ کینیڈا، شیئرڈ سروسز کینیڈا، شماریات کینیڈا (Statistics Canada) اور ٹریژری بورڈ سیکریٹریٹ شامل ہیں۔
دوسری جانب، پروفیشنل انسٹی ٹیوٹ آف دی پبلک سروس آف کینیڈا (PIPSC) نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے اس کے 1,849 اراکین کو بھی ورک فورس ایڈجسٹمنٹ نوٹس دیے گئے۔ یونین کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کو نوکریوں کے لیے ایک طرح کی “ہنگر گیمز طرز کی جنگ” میں دھکیلا جا رہا ہے۔گزشتہ ہفتے کٹوتیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے والی اس یونین نے ایک بیان میں مطالبہ کیا کہ حکومت وضاحت کرے کہ تجربہ کار سرکاری ملازمین کو کیوں مسلسل کٹوتیوں کا سامنا ہے، جبکہ آؤٹ سورسنگ پر اخراجات ریکارڈ سطح تک پہنچ چکے ہیں۔
PIPSC کے صدر شان او رائلی نے کہاہم اپنے اراکین سے براہِ راست سن رہے ہیں کہ کنسلٹنٹس اب بھی انہی ملازمین کے ساتھ کام کر رہے ہیں جنہیں اسی ہفتے برطرفی کے نوٹس دیے گئے۔ یہ صورتحال سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔”
سرکاری ریکارڈ کے مطابق، کینیڈا نے 2024-25 میں بیرونی پیشہ ورانہ اور خصوصی خدمات پر 19 ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 2 ارب ڈالر زیادہ اور 2020 کے بعد سے 8.5 ارب ڈالر کا اضافہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں :آئی پرو ریئلٹی اسکینڈل پر درجنوں ریئلٹرز کا کوئینز پارک میں احتجاج، مکمل معاوضے کا مطالبہ
او رائلی کے مطابق، اعلان کردہ کٹوتیاں حکومت کے جامع اخراجاتی جائزے (Comprehensive Expenditure Review) کا حصہ ہیں، اور آنے والے ہفتوں میں مزید نوکریوں کے خاتمے کی توقع ہے۔اوٹاوا آئندہ پانچ برسوں میں پروگرام اخراجات اور انتظامی لاگت میں تقریباً 60 ارب ڈالر کی کمی کرنا چاہتا ہے، جو اسی جامع اخراجاتی جائزے کے تحت کی جائے گی۔
تازہ ترین وفاقی بجٹ میں کہا گیا ہے کہ اس عمل میں “آپریشنز کی تنظیمِ نو اور اندرونی خدمات کو یکجا کرنا” شامل ہوگا، جبکہ ورک فورس ایڈجسٹمنٹ اور قدرتی کمی (attrition) کے ذریعے سرکاری ملازمین کی تعداد کو “زیادہ پائیدار سطح” پر واپس لایا جائے گا۔کینیڈین ایسوسی ایشن آف پروفیشنل ایمپلائز (CAPE) کے مطابق، نومبر میں بجٹ کے اعلان کے بعد سے اب تک اس کے 2,800 سے زائد اراکین کو ورک فورس ایڈجسٹمنٹ نوٹس مل چکے ہیں۔
ان میں سے 1,900 سے زیادہ ملازمین شماریات کینیڈا میں کام کرتے ہیں، جبکہ دیگر مختلف محکموں میں ہیں، جن میں نیچرل ریسورسز کینیڈا، ٹرانسپورٹ کینیڈا اور پرائیوی کونسل آفس شامل ہیں۔
ورک فورس ایڈجسٹمنٹ نوٹس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملازم کی نوکری کٹوتیوں سے متاثر ہو سکتی ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ نوٹس حاصل کرنے والوں میں سے کتنے افراد کو حقیقت میں برطرف کیا جائے گا۔حکومت کا منصوبہ ہے کہ وفاقی پبلک سروس میں نوکریوں کی تعداد 2023-24 میں 3 لاکھ 68 ہزار کی بلند ترین سطح سے کم کر کے تقریباً 40 ہزار گھٹا دی جائے۔ اب تک تقریباً 10 ہزار نوکریاں ختم کی جا چکی ہیں۔
اس منصوبے کے تحت آئندہ دو برسوں میں 1,000 ایگزیکٹو عہدے ختم کیے جائیں گے، جبکہ تین سال کے دوران مینجمنٹ اور کنسلٹنگ سروسز پر اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جائے گی۔وفاقی حکومت نے تقریباً 68 ہزار ایسے سرکاری ملازمین کو خطوط ارسال کیے ہیں جو مجوزہ قبل از وقت ریٹائرمنٹ پروگرام کے اہل ہو سکتے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ قدرتی کمی کی شرح بڑھانا چاہتی ہے اور نوجوان ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے سے بچنے کے لیے ایک رضاکارانہ پروگرام متعارف کرا رہی ہے، جس کے تحت ملازمین پنشن میں کٹوتی کے بغیر جلد ریٹائر ہو سکیں گے۔تازہ وفاقی بجٹ کے مطابق، حکومت اس ایک سالہ قبل از وقت ریٹائرمنٹ پروگرام کو ممکنہ طور پر اسی ماہ نافذ کرنا چاہتی ہے۔
PSAC کی قومی صدر شارون ڈی سوزا نے دی کینیڈین پریس کو بتایا کہ یہ واضح نہیں کہ کن محکموں اور کن خدمات پر نوکریوں کی کٹوتیوں کا اثر پڑے گا، جسے انہوں نے “شفافیت کی کمی” قرار دیاانہوں نے کہا کہ قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے منصوبے کی تفصیلات بھی بہت محدود ہیں۔
ڈی سوزا نے کہااس کا ہمارے اراکین پر گہرا اثر پڑا ہے، خاص طور پر ان کی ذہنی صحت پر۔ انہیں نہیں معلوم کہ اگلا نمبر ان کا ہے یا نہیں۔ یہ ان کینیڈین شہریوں کے لیے بھی خوفناک وقت ہے جو ان خدمات پر انحصار کرتے ہیں، کیونکہ انہیں بھی معلوم نہیں کہ وہ کس طرح متاثر ہوں گے، اور یہ منصفانہ نہیں ہے۔”
انہوں نے کہا کہ یونین زیادہ سے زیادہ نوکریوں اور عوامی خدمات کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔ادھر شماریات کینیڈا پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ وہ اپنے عملے میں سے تقریباً 850 ملازمین اور اپنی ایگزیکٹو ٹیم کے 12 فیصد عہدے ختم کرے گا۔
قومی شماریاتی ادارے کے ترجمان کارٹر مین نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ متاثرہ ملازمین کو آئندہ دو ہفتوں کے اندر مطلع کر دیا جائے گا۔امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ، ماحولیات و ماحولیاتی تبدیلی، اور ایمپلائمنٹ اینڈ سوشل ڈیولپمنٹ سمیت کئی محکموں نے اپنے عملے کو گزشتہ سال کے آخر میں ہی بتا دیا تھا کہ نوکریوں میں کٹوتیوں سے متعلق معلومات اس ماہ فراہم کی جائیں گی۔