اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کیلگری میں ایک بڑے واٹر مین کے خراب ہونے کے ایک ہفتے بعد بھی پانی کا بحران برقرار ہے، جس کے باعث شہر کی انتظامیہ نے ہنگامی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ میئر جیرومی فارکاس نے ان تمام افراد اور اداروں سے اپیل کی ہے جو گھروں سے کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ عارضی طور پر ریموٹ ورک کو اختیار کریں، تاکہ پانی کے نظام پر دباؤ کم کیا جا سکے۔
منگل کے روز سوشل میڈیا پر جاری بیان میں میئر فارکاس نے کہا کہ سٹی آف کیلگری کے وہ ملازمین جن کے لیے گھروں سے کام کرنا ممکن ہے، انہیں 16 جنوری تک ریموٹ ورک کی اجازت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے نجی اداروں اور آجر حضرات سے بھی گزارش کی کہ وہ اسی طرز پر اپنے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی سہولت دیں۔ میئر کے مطابق شہر اس وقت “واٹر ریڈ زون” میں ہے اور مرمتی کام مکمل کرنے کے لیے شہریوں کے فوری تعاون کی اشد ضرورت ہے۔
سٹی انتظامیہ کے مطابق 15 ہزار سے زائد شہری ملازمین میں سے تقریباً دو تہائی ایسے ہیں جن کے فرائض گھروں سے انجام نہیں دیے جا سکتے، تاہم باقی عملہ اس اقدام کے ذریعے پانی کے مجموعی استعمال میں کمی لانے میں کردار ادا کرے گا۔
ماحولیاتی تنظیم گرین کیلگری کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، لیکس وان ڈیر راڈٹ کا کہنا ہے کہ گھروں میں پانی کا استعمال دفاتر کے مقابلے میں کہیں زیادہ قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق بڑے دفتری عمارات میں خودکار فلش سسٹمز اور دیگر سہولیات پانی کے غیر ضروری استعمال کا باعث بنتی ہیں، جبکہ گھروں میں لوگ خود یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کب اور کتنا پانی استعمال کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف خودکار فلشز میں کمی بھی مجموعی طور پر نمایاں فرق ڈال سکتی ہے۔
شہر کی جانب سے ایک انوکھا مگر مؤثر مشورہ بھی دیا گیا ہے، جسے “لانڈری ٹورازم” کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے تحت شہریوں کو ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ کپڑے دھونے کے لیے شہر کے مضافات میں رہنے والے دوستوں یا رشتہ داروں کے ہاں جائیں، جہاں کیلگری کا پانی استعمال نہیں ہوتا۔ حکام کے مطابق ایسا کوئی بھی قدم جو پانی کے استعمال کو شہر سے باہر منتقل کرے، بحران کے دوران مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
سٹی آف کیلگری کے پینے کے پانی کے ڈیش بورڈ کے مطابق پیر کے روز شہر میں 514 ملین لیٹر پانی استعمال ہوا، جو کہ قابلِ برداشت حد سے کہیں زیادہ ہے۔ ہدف 485 ملین لیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ اس وقت کیلگری میں اسٹیج 4 واٹر پابندیاں نافذ ہیں، جن کے تحت شہریوں سے کہا گیا ہے کہ ڈش واشر اور واشنگ مشین صرف مکمل بھرنے پر چلائیں، شاور کا دورانیہ تین منٹ سے کم رکھیں اور صرف ضرورت کے وقت ہی ٹوائلٹ فلش کریں۔
ادھر بدھ کی صبح باؤنِس کے علاقے میں 30 گھروں اور ایک کاروباری مرکز کو عارضی طور پر پانی کی فراہمی معطل کیے جانے کا امکان ہے۔ متاثرہ علاقوں میں 48 ایونیو نارتھ ویسٹ، 33 ایونیو نارتھ ویسٹ اور ساکر سینٹر شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدام فیڈر مین کے معائنے کے لیے ضروری ہے، جس کے لیے پائپ کا ایک حصہ خالی کرنا ناگزیر ہے۔ شہریوں کو پیشگی اطلاع عملے کی جانب سے دی جائے گی۔