اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل سمتھ نے کہا ہے کہ کینیڈا کا خسرہ کے خاتمے کا عالمی درجہ کھو دینا نہایت تشویش ناک ہے، تاہم صوبائی حکومت نے شہریوں کو ویکسین لگوانے کی ترغیب دینے کے لیے اپنی پوری کوشش کی ہے۔
ان کے مطابق خسرہ انتہائی تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے اور اس سال صوبے میں رپورٹ ہونے والے تقریباً دو ہزار کیسز کا زیادہ تر تعلق ان کمیونٹیز سے ہے جہاں ویکسی نیشن کی شرح معمول سے کم ہے۔ سمتھ کا کہنا ہے کہ کمزور ویکسی نیشن والے علاقوں میں بیماری کے پھیلاؤ کے امکانات زیادہ رہتے ہیں، اس لیے حکومت نے خاص طور پر ان علاقوں میں آگاہی مہم چلائی۔
پریمیئر کے مطابق صوبے کی ویکسینیشن مہم نے کئی علاقوں میں نمایاں نتائج دیے، اور بعض کمیونٹیز میں ویکسین لگوانے والوں کی تعداد پچاس فیصد تک بڑھ گئی۔ انہوں نے زور دیا کہ خسرہ کے خاتمے کا عالمی درجہ دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ویکسین لگوانے میں تاخیر نہ کریں۔ سمتھ نے کہا کہ بیماری کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت اپنا کردار ادا کر رہی ہے، لیکن اس عمل کی کامیابی شہریوں کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔
مارچ میں خسرہ کی وبا پھوٹنے کے بعد سے اب تک البرٹا میں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد کو اسپتال منتقل کیا جا چکا ہے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ گزشتہ ماہ ایک افسوس ناک واقعہ اُس وقت پیش آیا جب ایک نوزائیدہ بچہ انتقال کر گیا۔ بچہ ایک ایسی خاتون کے ہاں پیدا ہوا تھا جسے حمل کے دوران خسرہ لاحق ہو گیا تھا، جس نے صورت حال کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا۔ اس سال کینیڈا کے تقریباً ہر صوبے میں خسرہ کے کیسز سامنے آئے ہیں، لیکن سب سے زیادہ کیسز البرٹا اور اونٹاریو میں رپورٹ ہوئے ہیں، جس نے محکمہ صحت کو مزید چوکسی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔