اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران پر جنگ کے اثرات برطانیہ کی معیشت پر بھی واضح ہونے لگے ہیں
جس کے پیش نظر بینک آف انگلینڈ نے اپنی اہم مالی پالیسی میں فیصلہ کیا ہے۔بینک نے شرح سود کو 3.75 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے، حالانکہ جنگ شروع ہونے سے قبل اقتصادی تجزیہ کاروں نے توقع ظاہر کی تھی کہ شرح سود میں کمی کی جائے گی تاکہ صارفین اور کاروبار دونوں کو مالی سہولت فراہم کی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق شرح سود میں کمی سے لاکھوں افراد کو اپنے مارگیج کی ماہانہ ادائیگیوں میں بچت حاصل ہوتی، جس سے گھریلو مالی بوجھ کم ہوتا۔ تاہم ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی حالات نے مالیاتی ماہرین کے لیے غیریقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کی وجہ سے شرح سود میں کمی یا اضافہ کرنے کے بارے میں کوئی واضح فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔بینک آف انگلینڈ کا یہ فیصلہ اقتصادی استحکام کو ترجیح دینے کے تناظر میں لیا گیا ہے۔ بینک نے اشارہ دیا ہے کہ اگر عالمی حالات میں مزید دباؤ پڑا یا توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو ممکن ہے مستقبل میں شرح سود میں تبدیلی کی ضرورت پیش آ جائے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران پر جنگ کے اثرات برطانیہ کی معیشت کے کئی شعبوں پر پڑ رہے ہیں، خاص طور پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور عالمی مارکیٹ میں عدم استحکام، جس سے صارفین اور کاروبار دونوں پر مالی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس پیش رفت کے تناظر میں شرح سود کو مستحکم رکھنے کا اقدام، برطانیہ کی مرکزی بینک کی جانب سے محتاط حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔مجموعی طور پر یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کا اثر عالمی معیشت اور مالی پالیسی پر براہِ راست پڑ رہا ہے، اور بینک آف انگلینڈ اس کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے محتاط رویہ اختیار کر رہا ہے۔