اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر مونٹریال میں عوامی آمدورفت کے ادارے کے مرمتی شعبے سے وابستہ ملازمین نے طویل مذاکرات کے بعد طے پانے والے نئے اجتماعی معاہدے کی بھاری اکثریت سے منظوری دے دی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق چھیاسی فیصد ملازمین نے اس معاہدے کے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد کئی برس سے جاری کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہو گیا ہے۔
یہ مزدور تنظیم تقریباً دو ہزار چار سو مرمتی کارکنوں کی نمائندگی کرتی ہے اور ایک بڑی عوامی خدمات سے وابستہ تنظیمی فیڈریشن کے ساتھ منسلک ہے۔ معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک مصالحتی عمل اختیار کیا گیا جس میں غیر جانبدار ثالث کی تجاویز کو بنیاد بنایا گیا۔ یونین قیادت نے انہی تجاویز کو اپنے ارکان کے سامنے پیش کیا، جنہیں واضح اکثریت نے قبول کر لیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ برس کے دوران چار مختلف مواقع پر ہڑتالیں کی گئیں۔ ان ہڑتالوں کی نوعیت مختلف رہی، بعض اوقات جزوی ہڑتال کے تحت مصروف اوقات میں ضروری خدمات جاری رکھی گئیں، جبکہ کچھ مواقع پر اضافی اوقات کار سے انکار بھی کیا گیا۔ یہ تمام اقدامات ملازمین کے مطالبات کو اجاگر کرنے کے لیے کیے گئے تھے۔
مذاکرات کا یہ عمل نہایت طویل اور پیچیدہ رہا، جو تقریباً دو برس تک جاری رہا۔ ابتدا میں مصالحت کا مرحلہ، پھر ثالثی، اور بعد ازاں دوبارہ مصالحتی عمل اختیار کیا گیا، جس کے نتیجے میں چوبیس مارچ کو حتمی معاہدہ طے پایا۔
ادارے کی سربراہ خاتون نے اس پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باہمی گفت و شنید کے ذریعے معاہدہ طے پانا ہمیشہ بہتر رہتا ہے کیونکہ اس سے ادارے اور ملازمین کے درمیان تعلقات خوشگوار رہتے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں فریقین نے مالی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے لچک کا مظاہرہ کیا۔
تنازع کے بنیادی نکات میں بیرونی ٹھیکیداری کا استعمال اور اجرتوں کا معاملہ شامل تھا۔ ادارہ مالی دباؤ کے باعث اخراجات کم کرنا چاہتا تھا، جبکہ مزدور تنظیم اپنے ارکان کے روزگار کے تحفظ اور عوامی آمدورفت کے نظام کے معیار کو برقرار رکھنے پر زور دے رہی تھی۔
مزید برآں، ادارہ دیگر بڑی مزدور تنظیموں کے ساتھ بھی معاہدے کر چکا ہے، جو بس ڈرائیوروں، زیر زمین ریل کے آپریٹرز، انتظامی و تکنیکی عملے اور پیشہ ور ماہرین کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر ہزاروں ملازمین کے لیے استحکام کی راہ ہموار ہوئی ہے۔