اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)مونٹریال کی نئی میئر نے پیر کے روز اس موسمِ سرما میں شہر کے بے گھر افراد کی مدد کے لیے ایک وسیع البنیاد حکمتِ عملی پیش کی، ایسے وقت میں جب سردی کی شدت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ منصوبے کا مرکزی مقصد شہر بھر میں بے گھر افراد کو فوری، مؤثر اور باعزت سہولیات فراہم کرنا ہے۔
کرائسس یونٹ کا قیام
میئر مارتینز فیرادا نے اعلان کیا کہ شہر ایک نیا کرائسس یونٹ تشکیل دے رہا ہے، جو بے گھر آبادی سے متعلق زمینی صورتِ حال کا جائزہ لینے، فوری فیصلے کرنے اور محکموں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کے لیے ہفتہ وار بنیادوں پر بیٹھک کرے گا۔یہ یونٹ صوبائی و بلدیاتی حکام، صحت و سماجی خدمات کے اداروں، کیوبیک کے وزارتِ بلدیات اور وزارتِ عوامی تحفظ، اور مختلف کمیونٹی تنظیموں پر مشتمل ہوگا۔فیرادا کے مطابق اس کا مقصد یہ ہے کہ ہم تیزی سے فیصلہ کر سکیں اور فوری طور پر مسئلے کو حل کر سکیں۔
میئر نے یہ بھی کہا کہ یہ یونٹ شہر کے مختلف بوروز کے میئرز کے ساتھ براہِ راست تعاون کرے گا، تاکہ ہر علاقے میں پیش آنے والی صورتحال کا مؤثر حل نکالا جا سکے۔ ان کے بقول، مختلف بوروز اور شہری تنظیمیں وقتی مسائل حل کرنے کے لیے اس یونٹ سے رہنمائی حاصل کر سکیں گی۔
سرد موسم میں سہولیات: ہیٹنگ اسٹیشنز اور شیلٹرز
میئر کے مطابق مونٹریال اس سال اپنے بے گھروں کے بجٹ میں تین گنا اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس فنڈنگ کا ایک بڑا حصہ اضافی 500 گرم شیلٹرز کے قیام پر خرچ کیا جائے گا، جنہیں کرسمس سے پہلے فعال کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔اگرچہ ان شیلٹرز کے مقامات فی الحال ظاہر نہیں کیے گئے، لیکن کمیونٹی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ قدم شہر کے لیے نہایت اہم اور وقت کی ضرورت ہے۔ویلکم ہال مشن کے سی ای او، سیم واٹس نے کہابے گھری کسی ایک علاقے کی نہیں، پورے شہر کی ذمہ داری ہے، اس لیے ہمیں مربوط انداز اپنانا ہوگا۔
میئر نے بتایا کہ CIUSSS du Centre-Sud نے ان شیلٹرز کو چلانے کے لیے درکار فنڈنگ کی منظوری دے دی ہے، جس سے کمیونٹی پارٹنرز کو وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
خیمہ بستیاں: احترامِ انسانیت کے ساتھ نیا طریقہ کار
مارتینز فیرادا نے کہا کہ ان کا ہدف اگلے چار برسوں میں شہر بھر سے بے گھر افراد کی خیمہ بستیوں کا خاتمہ ہے، لیکن اس عبوری دور میں خیمہ بستیاں ختم نہیں کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ شہر ایک ایسا پروٹوکول بنا رہا ہے جس کا مقصد خیمہ بستیوں کو انسانی وقار کے ساتھ منظم کرنا ہے، تاکہ نہ صرف وہاں رہنے والوں بلکہ نزدیک رہنے والے شہریوں کی حفاظت بھی یقینی بنائی جا سکے۔
ایگزیکٹو کمیٹی کے صدر اور بے گھروں کے امور کے ذمہ دار، کلود پینارڈ نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر خیمہ بستیوں کو منتقل تو کیا جائے گا، مگر اس دوران مددگار ورکرز افراد کے ساتھ رہ کر انہیں محفوظ جگہ منتقل کریں گے۔
انہوں نے کہاآپ کسی کو تب تک نہیں ہٹا سکتے جب تک آپ کے پاس اس کے لیے کوئی حل موجود نہ ہو۔شہر نے یہ بھی اعلان کیا کہ ضرورت پڑنے پر وہ خیمہ بستیوں کے لیے سلیپنگ بیگز اور دیگر ضروری سامان بھی فراہم کرے گا۔
کمیونٹی تنظیموں کی حمایت
اولڈ بریوری مشن سے تعلق رکھنے والے ایٹین ڈیسگانیس نے کہا کہ یہ وہی نقطہِ نظر ہے جس کا وہ برسوں سے مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ان کے مطابق،جتنا زیادہ وقت ہم خیمہ بستیوں میں رہنے والوں کے ساتھ گزاریں گے، اتنی ہی زیادہ کامیابی سے ہم انہیں اپنی خدمات تک لاسکتے ہیں۔گزشتہ ہفتے مونٹریال نارتھ میں ایک خیمہ بستی کو غلط فہمی کے باعث مسمار کردیا گیا تھا، جس کے دوران کئی افراد کا سامان ضائع ہوگیا۔ اس واقعے کے بعد نئی میئر نے واضح کیا کہ مستقبل میں ایسا نہیں ہونا چاہیے اور اب ہر کارروائی ایک منظم پروٹوکول کے تحت ہوگی۔
طویل المدتی حل کی ضرورت
علاقائی صحت حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے ہر مرحلے پر عوام کو باخبر رکھا جائے گا، تاکہ شہریوں اور خیمہ بستیوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کم ہوسکے۔
کئی غیر منافع بخش تنظیموں نے اس منصوبے پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ یہ صرف ہنگامی بنیادوں کا منصوبہ نہ ہو بلکہ ایک مستقل، پائیدار حکمتِ عملی میں تبدیل ہو جائے، تاکہ شہر ہر سال ایمرجنسی حالات میں نہ پھنسے۔
ریکوشے ہاؤسنگ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر تانیا شیروں نے کہاسب سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ نظام کے اندر ادارے ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے۔ کرائسس یونٹ اس خلا کو بھرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔