اردو ورلڈ کینیڈ ا ( ویب نیوز ) انسانیت ہمیشہ سے خلا کے اسرار اور آسمانی اجسام کے پراسرار رویے کا معترف رہی ہے،
مگر حالیہ اطلاعات کے مطابق ایک ایسا واقعہ ہمارے سائنسدانوں کے لیے چیلنج بن کر ابھرا ہے جو نہ صرف نظریاتی بلکہ عملی اعتبار سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ناسا کی جانب سے جاری کردہ خبروں کے مطابق شہابِ ثاقب 2024 YR4 کے چاند سے ٹکرانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، اور اگر موجودہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی تو سال 2032 میں چاند کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔یہ صورتحال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانی سائنس نے خلاء میں قدم رکھ کر بے شمار کامیابیاں حاصل کی ہیں، مگر قدرت کی طاقت ہمیشہ قابو سے باہر رہتی ہے۔ چاند پر ممکنہ اثرات نہ صرف اس کی سطح تک محدود ہوں گے، بلکہ زمین کے گرد گردش کرنے والے سیٹلائٹس، کمیونیکیشن اور نیویگیشن نظام بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ آج ہم ڈیجیٹل دنیا میں جڑے ہوئے ہیں، اور ایک چھوٹا خلائی حادثہ عالمی انفراسٹرکچر کو بھی لرزا سکتا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ سائنس دان پہلے ہی اس خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقل نگرانی اور مشاہدے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جیمس ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے فروری 2026 میں مزید تفصیلی معلومات حاصل ہوں گی، اور اگر ضرورت ہوئی تو انسانیت کے لیے ایک عملی حل، یعنی اسپیس کرافٹ کے ذریعے شہابِ ثاقب کے راستے میں تبدیلی لانے کا منصوبہ بھی تیار ہے۔یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی صرف نظریات اور مشاہدات تک محدود نہیں رہ سکتی۔ انسانی شعور اور منصوبہ بندی ہی وہ قوت ہے جو ہمیں قدرتی خطرات سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ چاند کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات نہ صرف خلائی تحقیق کی کامیابی ہوں گے بلکہ یہ انسانی عزم اور دانش کا روشن مظہر بھی ثابت ہوں گے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شہابِ ثاقب اور چاند کی ممکنہ ٹکراؤ کی خبروں نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ خلاء میں چھپی ہر غیر یقینی صورتحال کے لیے سائنس اور انسانی تیاری کی ضرورت ہے۔ یہ محض ایک فلکیاتی خبر نہیں بلکہ انسانی شعور کے لیے ایک خبردار کرنے والا پیغام بھی ہے۔