اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیو ز ) کینیڈا کے نوناوت سے رکن پارلیمنٹ لاری ایڈلاؤٹ نے نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) چھوڑ کر لبرل پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے
جس سے ملک کی سیاسی صورتحال میں اہم تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔این ڈی پی کے عبوری رہنما **ڈین ڈیوس** نے منگل کی رات دیر گئے اس شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے سے "شدید مایوس” ہیں اور یہ اقدام پارٹی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی پارٹی کی پارلیمانی طاقت پر اثر ڈالے گی اور عوام کے درمیان این ڈی پی کے موقف کو بھی متاثر کرے گی۔
لاری ایڈلاؤٹ کے لبرل پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے سے وزیر اعظم **Mark Carney** کی قیادت میں لبرل حکومت پارلیمنٹ میں اکثریت کے قریب پہنچ گئی ہے، جس سے حکومت کو اہم قانون سازی اور پالیسی اقدامات میں سہولت حاصل ہو سکتی ہے۔
لاری ایڈلاؤٹ نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کی بہتر نمائندگی اور صوبے کے مفادات کے تحفظ کے لیے یہ قدم اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لبرل پارٹی کے پلیٹ فارم سے وہ اپنی عوامی خدمات کو مزید مؤثر انداز میں جاری رکھ سکیں گے اور نوناوت کے مسائل جیسے معیشت، صحت، تعلیم اور مقامی ترقی پر توجہ مرکوز کریں گے۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس شمولیت نے نہ صرف پارلیمانی توازن بدل دیا ہے بلکہ آئندہ سیاسی انتخابات اور حکومتی اقدامات کے لیے بھی اثرات مرتب کیے ہیں، اور اس سے کینیڈا میں پارٹی سیاست کی حرکیات میں نئی تبدیلیاں متوقع ہیں۔