اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی دو درجن سے زائد تنظیموں نے ایڈمنٹن پولیس سروس کے سربراہ وارن ڈریخل کے اسرائیل کے دورے پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے وضاحت یا استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
مسلم تنظیموں نے ایک مشترکہ کھلا خط ایڈمنٹن پولیس کمیشن کو ارسال کیا ہے جس میں دورے کی وجوہات اور اس کی منظوری کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیلی جواب طلب کیا گیا ہے۔ اس خط پر شہر کی چھبیس مساجد اور مسلم تنظیموں کے نمائندوں نے دستخط کیے ہیں۔
موسیٰ قسقس جو کینیڈا فلسطین کلچرل ایسوسی ایشن کے ترجمان ہیں، کا کہنا ہے کہ پولیس سربراہ کی جانب سے پیش کی گئی وضاحت مسلم برادری کے لیے قابل اطمینان نہیں ہے۔ ان کے مطابق اگر پولیس سربراہ اپنے مؤقف پر قائم رہنا چاہتے ہیں تو انہیں مسلم اور فلسطینی برادری کے ساتھ براہ راست ملاقات کر کے وضاحت دینی چاہیے، بصورت دیگر انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
پولیس سربراہ وارن ڈریخل گزشتہ ماہ ایک دورے کے دوران اسرائیل گئے تھے جہاں انہوں نے مختلف پولیس اداروں کا دورہ کیا۔ یہ سفر میجر سٹیز چیفس ایسوسی ایشن کے تعاون سے کیا گیا تھا، جو امریکا اور کینیڈا کے بڑے شہروں کے پولیس سربراہان کی ایک آزاد تنظیم ہے۔
وارن ڈریخل نے اپنے دورے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل جیسے ممالک میں مختلف آبادیوں اور حالات کو سمجھنا پولیس قیادت کے لیے اہم ہوتا ہے تاکہ اپنے ملک اور شہروں میں درپیش مسائل کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔ تاہم مسلم تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ وضاحت انہیں قائل نہیں کر سکی۔
ادھر بین ہینڈرسن جو ایڈمنٹن پولیس کمیشن کے سربراہ ہیں، نے بتایا کہ انہوں نے اس دورے کی منظوری اس وقت دی جب انہیں معلوم ہوا کہ اس کے اخراجات سرکاری خزانے کے بجائے میجر سٹیز چیفس ایسوسی ایشن برداشت کرے گی۔ ان کے مطابق پولیس سربراہ نے اس دورے کو پیشہ ورانہ لحاظ سے مفید قرار دیا تھا اور اس بنیاد پر کمیشن کو اسے روکنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آئی۔
دوسری جانب جیوش فیڈریشن آف ایڈمنٹن نے اس دورے کی حمایت کرتے ہوئے پولیس سربراہ اور کمیشن کا شکریہ ادا کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ کینیڈا بھر میں یہودی برادری کو درپیش سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں اس طرح کے دورے اہمیت رکھتے ہیں۔
تنظیم کی سربراہ اسٹیسی لیوٹ رائٹ نے کہا کہ اس دورے کا مقصد مختلف معاشروں میں سیکیورٹی کے مسائل کو سمجھنا اور کمیونٹی کی حفاظت کو بہتر بنانا تھا، نہ کہ مختلف برادریوں کے درمیان تقسیم پیدا کرنا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل مخالف جذبات کو معمول بنانا شہر میں سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت ایڈمنٹن میں مختلف برادریوں کے درمیان بحث کا موضوع بن چکا ہے اور مسلم تنظیمیں اس دورے کے حوالے سے مزید وضاحت اور اعتماد بحال کرنے کے اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔