اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ڈیجیٹل شناختی کارڈ قبول نہ کرنے والے سرکاری و نجی اداروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیجیٹل شناختی کارڈ قانونی طور پر روایتی شناختی کارڈ کے برابر حیثیت رکھتا ہے اور اسے مسترد کرنا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
نادرا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض سرکاری دفاتر، مالیاتی ادارے اور دیگر تنظیمیں شہریوں سے ڈیجیٹل شناختی کارڈ کے بجائے لازماً اصل شناختی کارڈ یا اس کی فوٹو کاپی طلب کر رہی ہیں، جو کہ مروجہ قانونی اور ضابطہ جاتی فریم ورک کے منافی عمل ہے۔ اتھارٹی کے مطابق ڈیجیٹل شناختی کارڈ کو باقاعدہ قانونی تحفظ حاصل ہے اور اسے شناخت کے مستند ثبوت کے طور پر قبول کیا جانا چاہیے۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ نادرا آرڈیننس کے تحت ڈیجیٹل شناخت سے متعلق باقاعدہ ضوابط تشکیل دیے گئے ہیں۔ ان ضوابط کے تحت ریگولیشن 9 اور 10 واضح طور پر ڈیجیٹل شناختی اسناد کو قانونی حیثیت فراہم کرتے ہیں۔ ان قوانین کے مطابق ڈیجیٹل شناختی کارڈ کو شناخت کے درست اور قابلِ قبول ثبوت کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
نادرا کے مطابق ڈیجیٹل شناختی نظام متعارف کرانے کا مقصد شہریوں کو جدید اور محفوظ سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے شناختی کارڈ کی غیرضروری فوٹو کاپیوں کی طلب کم ہو سکتی ہے، جس سے شہریوں کے ذاتی کوائف کے تحفظ میں بھی مدد ملتی ہے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل شناختی کارڈ کے استعمال سے شناختی معلومات کے غلط استعمال اور جعل سازی کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔
نادرا نے تمام سرکاری محکموں، عوامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں، مالیاتی اداروں اور ٹیلی کام کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان ضوابط کی مکمل پابندی یقینی بنائیں اور ڈیجیٹل شناختی کارڈ کو قانونی دستاویز کے طور پر قبول کریں۔ اتھارٹی نے واضح کیا کہ اگر کوئی ادارہ اس ضمن میں ہدایات پر عمل درآمد نہیں کرتا تو یہ قانون کی خلاف ورزی تصور کی جا سکتی ہے۔
اتھارٹی نے شہریوں کو بھی آگاہ کیا ہے کہ اگر کسی سرکاری یا نجی ادارے کی جانب سے ڈیجیٹل شناختی کارڈ قبول کرنے سے انکار کیا جائے تو وہ اپنی شکایت نادرا کے سرکاری شکایتی نظام کے ذریعے درج کرا سکتے ہیں تاکہ اس معاملے پر فوری کارروائی کی جا سکے۔