اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)پاکستان میں شہریوں کی شناخت کی تصدیق کی ضرورت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر بینکوں، مالیاتی اداروں اور دیگر ریگولیٹڈ شعبوں میں۔ مثال کے طور پر جب کوئی شہری بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے یا رقم جمع کروانے کے لیے رجوع کرتا ہے تو بینک نادرا کے ذریعے اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ پیش کی گئی شناختی دستاویزات واقعی اسی فرد سے متعلق ہیں۔
شناخت کی تصدیق کے بڑھتے ہوئے ان تقاضوں کے باعث نادرا پر دباؤ میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، کیونکہ روزانہ مختلف سرکاری اور نجی ادارے بائیومیٹرک تصدیق سمیت شہریوں کی شناخت کی توثیق کے لیے رجوع کرتے ہیں۔
اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ’’نشانِ پاکستان‘‘ کے نام سے شناخت کی تصدیق کا ایک نیا اور جامع ڈیجیٹل نظام متعارف کرا دیا ہے۔ نادرا کے مطابق یہ جدید نظام تمام سرکاری اداروں اور ریگولیٹڈ نجی شعبے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ وہ ایک ہی پلیٹ فارم کے ذریعے شہریوں کی شناختی دستاویزات کی تصدیق، رجسٹریشن، سبسکرپشن اور دیگر متعلقہ خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں۔
نادرا کا کہنا ہے کہ ’’نشانِ پاکستان‘‘ دراصل ایک مکمل ویب پورٹل ہے، جس کے ذریعے اداروں کو آن لائن رجسٹریشن اور سبسکرپشن کی سہولت دی جائے گی۔ اس سے قبل اداروں کو نادرا کی خدمات حاصل کرنے کے لیے طویل دستاویزی کارروائی، بار بار منظوری کے مراحل اور پیچیدہ طریقہ کار سے گزرنا پڑتا تھا، جس کے باعث تاخیر اور مشکلات پیدا ہوتی تھیں۔ نئے نظام کے نفاذ کے بعد یہ تمام عمل ڈیجیٹل، شفاف اور کہیں زیادہ تیز ہو جائے گا۔
اس پورٹل کے ذریعے بینکوں، مائیکروفنانس اداروں، نان بینکنگ فنانشل انسٹی ٹیوشنز، ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں اور دیگر ریگولیٹڈ اداروں کو نادرا کی متعدد خدمات تک آسان رسائی حاصل ہو گی۔ ان سہولیات میں ملٹی بائیومیٹرک ویریفیکیشن، فنگر پرنٹس کے ذریعے تصدیق، پروف آف لائف، اور سنگل سائن آن (ایس ایس او) جیسی جدید سہولیات شامل ہیں، جو رجسٹرڈ اداروں کے لیے دستیاب ہوں گی۔
نادرا کے مطابق اس اقدام کا مقصد شناخت کی تصدیق کے عمل کو نہ صرف زیادہ مؤثر اور محفوظ بنانا ہے بلکہ اسے ملکی قوانین اور عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا بھی ہے۔ ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے خدمات کی فوری فراہمی اس نظام کی ایک اہم خصوصیت قرار دی گئی ہے۔ یہ تمام اقدامات حکومتِ پاکستان کے ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پراجیکٹ (ڈیپ) اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کے ضوابط کے تحت کیے جا رہے ہیں، تاکہ الیکٹرانک اور ڈیجیٹل خدمات میں شفافیت اور سکیورٹی کو فروغ دیا جا سکے۔
نادرا نے واضح کیا ہے کہ اس نظام کے تحت سرکاری اور ریگولیٹڈ نجی اداروں کو صرف شہریوں کی شناخت کی تصدیق تک محدود رسائی حاصل ہو گی۔ نظام کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ کوئی بھی ادارہ خودکار طور پر شہریوں کا ڈیٹا اپنے پاس محفوظ نہیں کر سکے گا۔ اس سہولت سے ملک کے مختلف سرکاری اور نجی بینکوں کے علاوہ مائیکروفنانس ادارے جیسے ایزی پیسہ، جیز کیش، ریگولیٹڈ آن لائن کاروبار اور دیگر متعلقہ ادارے فائدہ اٹھا سکیں گے، جس سے مجموعی طور پر پاکستان میں ڈیجیٹل شناختی نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔