اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے ملک بھر کے لیے ممکنہ موسمی خطرات کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا ہے۔
این ای او سی کے مطابق موجودہ موسمی صورتحال جنوری میں جاری کردہ متوقع موسمی جائزے کے عین مطابق ہے اور یہ 6 ماہ قبل پیشگی انتباہ جاری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
این ڈی او سی نے بتایا کہ اگلے 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں تیز ہوائیں، آندھی جھکڑ کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبرپختونخواہ کے بالائی و پہاڑی علاقوں میں برفباری متوقع ہے، جبکہ شمالی علاقوں میں مسلسل بارشوں کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے سیلابی صورتِ حال کا خدشہ ہے۔
بلوچستان، پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں گرج چمک، آندھی، طوفان اور بعض مقامات پر ژالہ باری بھی متوقع ہے۔
اسلام آباد اور پنجاب کے شہروں بشمول مری، راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، گوجرخان، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، سیالکوٹ، منڈی بہاؤالدین اور لاہور میں اگلے 12 سے 24 گھنٹوں میں آندھی جھکڑ اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
خیبرپختونخوا کے بالائی و جنوبی علاقوں، چترال، دیر، سوات، کالام، منگورہ، بٹگرام، پشاور، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، صوابی، نوشہرہ، مردان، چارسدہ، کوہاٹ، کرک، بنوں، وزیرستان اور لکی مروت میں بھی آندھی اور بارش متوقع ہے۔
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے علاقوں سکردو، ہنزہ، گلگت، استور، دیامر، گھانچے، نگر، غزر، خرمنگ، شگر، مظفرآباد، باغ، راولاکوٹ، حویلی، پونچھ، کوٹلی، میرپور، بھمبر اور وادی نیلم میں بھی بارش کا امکان ہے۔
بلوچستان کے شہروں کوئٹہ، ژوب، زیارت، قلعہ سیف اللہ، پشین، چمن، کوہلو، ڈکی، شیرانی، موسیٰ خیل، لورالائی، سبی اور ہرنای میں بھی اگلے 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران بارش متوقع ہے۔
سندھ میں کراچی، ٹھٹہ، بدین، سجاول، عمرکوٹ، حیدرآباد اور میرپورخاص کے علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
مغربی ہواؤں کے باعث بارشیں بالائی اور مغربی علاقوں میں جاری رہیں گی اور اپریل کے پہلے عشرے تک وقفے وقفے سے مزید بارشیں متوقع ہیں۔ شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں اور ملحقہ علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ، نشیبی علاقوں میں درمیانے درجے کی سیلابی صورتِ حال اور پہاڑی و برساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے، جبکہ شہری علاقوں اور ڈی جی خان، ٹانک، بنوں، لکی مروت، کوہاٹ، کرک، ملاکنڈ، دیر، سوات، وزیرستان اور چارسدہ میں بھی سیلابی خطرہ موجود ہے۔