اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اتحادی ممالک نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور اس کی حفاظت میں مدد نہ کی تو نیٹو کا مستقبل شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔
برطانوی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اس وقت ایران کے ساتھ مختلف امور پر بات چیت کر رہا ہے، تاہم ان کے بقول انہیں نہیں لگتا کہ ایران کسی بڑے معاہدے کے لیے فی الحال تیار ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس اہم آبی گزرگاہ کی سیکیورٹی کے معاملے پر کم از کم سات ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا نے کئی اتحادی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے عملی تعاون کریں۔ ان کے مطابق اسرائیل بھی اس معاملے میں امریکا کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ اس اسٹریٹجک راستے کو محفوظ بنایا جا سکے۔
برطانوی اخبار کے مطابق ٹرمپ نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر نیٹو ممالک نے اس معاملے میں تعاون نہ کیا تو اس کے اتحاد کے مستقبل پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز کی سلامتی انتہائی اہم ہے اور اس کی حفاظت صرف امریکا کی ذمہ داری نہیں ہونی چاہیے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ رواں ماہ کے آخر میں ان کی شی جن پنگ سے طے شدہ ملاقات بھی تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ ملاقات اسی صورت میں مفید ہو گی جب وہ ممالک جو آبنائے ہرمز سے فائدہ اٹھاتے ہیں اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کریں کہ وہاں کسی قسم کی کشیدگی یا خطرناک صورتحال پیدا نہ ہو۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ دنوں چین سمیت کئی ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے اپنے جنگی بحری جہاز خطے میں بھیجیں۔ انہوں نے چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سمیت دیگر اتحادی ممالک سے تعاون کی اپیل کی تھی۔
تاہم اب تک دنیا کے کسی بھی ملک نے کھل کر اس اپیل کا مثبت جواب نہیں دیا اور نہ ہی خطے میں اپنے جنگی جہاز بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر اس معاملے پر خاموش ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اس لیے اس کی سلامتی عالمی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔