اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے طویل اور اہم مذاکرات اختتام پذیر ہوگئے ہیں، جن کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے۔
اس معاہدے کی تصدیق پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان کے ذریعے کی ہے۔
خواجہ آصف کے مطابق، اسلام آباد اور کابل کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کے تحت دونوں ہمسایہ ممالک نے ایک دوسرے کی سرحدی خودمختاری، سلامتی اور جغرافیائی حرمت کا احترام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران سرحدی جھڑپوں، دہشت گردی کے واقعات، اور تجارتی راستوں کی بندش جیسے اہم معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جس کے بعد دونوں فریقوں نے مشترکہ طور پر اعتماد سازی کے اقدامات اٹھانے پر بھی رضا مندی ظاہر کی۔
ذرائع کے مطابق، دوحہ میں ہونے والے یہ مذاکرات تقریباً 13 گھنٹے تک جاری رہے۔ اس عمل کی میزبانی قطر نے کی، جبکہ ترکیہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی، جبکہ افغان فریق کی نمائندگی طالبان حکومت کے اعلیٰ حکام نے کی۔
مذاکرات کے دوران فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام صرف باہمی تعاون، سرحدی احترام اور رابطوں کے تسلسل سے ممکن ہے۔ معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سرحدی گشت کے نظام میں بہتری، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، اور غیر ریاستی عناصر کی سرگرمیوں کے انسداد کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک تیار کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور فائرنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا تھا، جس سے دوطرفہ تعلقات میں تناؤ بڑھ گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، دوحہ مذاکرات اور جنگ بندی کا یہ معاہدہ خطے میں امن کی بحالی اور اعتماد کے نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
خواجہ آصف نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ پاکستان ہمیشہ پرامن ہمسائیگی، علاقائی تعاون اور باہمی احترام کی پالیسی پر کاربند رہا ہے، اور اسلام آباد افغانستان کے ساتھ دیرپا امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
کیا آپ چاہیں گے کہ میں اسے خبری رپورٹ کے بجائے ادارتی تجزیہ (op-ed) یا اخباری فیچر کے انداز میں بھی لکھ دوں؟