اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈین مارگیج اینڈ ہاؤسنگ کارپوریشن (CMHC) کے مطابق ملک میں نئے گھروں کی تعمیر کی رفتار اکتوبر میں نمایاں طور پر سست پڑ گئی۔
جس کی مجموعی سالانہ شرح ستمبر کے مقابلے میں 17 فیصد کم رہی۔ اکتوبر میں موسمی تغیرات کو مدِنظر رکھتے ہوئے تعمیراتی سرگرمی کا تخمینہ 2 لاکھ 32 ہزار 765 یونٹس رہا، جو گزشتہ ماہ کے 2 لاکھ 79 ہزار 174 یونٹس سے خاصی کمی ظاہر کرتا ہے۔سی ایم ایچ سی کی ڈپٹی چیف اکانومسٹ تانیا بورا سا اوچوآ نے بتایا کہ زیادہ تر کمی اونٹاریو اور برٹش کولمبیا میں شروع ہونے والے نئے تعمیراتی منصوبوں میں کمی کے باعث سامنے آئی۔ تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ مونٹریال، کیلگری اور ایڈمنٹن جیسے شہروں میں تعمیراتی سرگرمیاں بہتر رہی ہیں، جس کی وجہ سے رواں سال مجموعی طور پر ہاؤسنگ اسٹارٹس کی تعداد 2024 کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق وہ شہر جن کی آبادی 10 ہزار یا اس سے زائد ہے، وہاں اکتوبر میں نئے شروع کیے گئے گھروں کی تعداد 19 ہزار 174 رہی، جو گزشتہ سال اسی ماہ کے 19 ہزار 763 یونٹس سے کچھ کم ہے۔ تاہم سال بہ سال کے حساب سے مجموعی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو 1 لاکھ 97 ہزار 207 یونٹس تک پہنچ چکی ہے، جب کہ 2024 کے اسی عرصے میں یہ تعداد 1 لاکھ 88 ہزار 660 تھی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ چھ ماہ کی اوسط رفتار کے مطابق ہاؤسنگ اسٹارٹس میں کمی کا رجحان برقرار ہے، اور اکتوبر کی اوسط 2 لاکھ 68 ہزار 907 رہی جو ستمبر کی 2 لاکھ 77 ہزار 81 اوسط سے کم ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار ملک کے مختلف صوبوں میں تعمیراتی رفتار کے نمایاں فرق کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔
ٹی ڈی اکنامکس کے ماہر رشی سندھی کا کہنا ہے کہ اگرچہ اعداد و شمار کمی ظاہر کرتے ہیں، لیکن مجموعی طور پر تعمیراتی شعبہ کرائے کے لیے مخصوص عمارتوں کی وجہ سے مستحکم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اونٹاریو میں کنڈومینیم منصوبوں کی سست پیش رفت نے صوبے کی مجموعی کارکردگی کو متاثر کیا ہے، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں صورتحال بہتر ہے۔
رشی سندھی نے پیش گوئی کی کہ موجودہ رجحانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے مہینوں میں نئے گھروں کی تعمیر میں مزید کمی متوقع ہے۔ ان کے مطابق آبادی میں سست رفتار اضافہ، کرائے کی طلب میں کمی اور کمزور پری سیلز مارکیٹ مستقبل میں ہاؤسنگ اسٹارٹس پر دباؤ ڈالیں گے۔