اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ ایک نیا تجارتی معاہدہ طے پانے کا اعلان کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ سابقہ تمام تجارتی معاہدوں سے مختلف اور دونوں ممالک کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند ثابت ہوگا۔
وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور بھارت کے درمیان تعلقات میں ایک نیا موڑ آنے والا ہے۔ اُن کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف دو طرفہ تجارت کو فروغ دے گا بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان پائے جانے والے حالیہ تناؤ کو بھی کم کرے گا۔صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں بتایا کہ بھارت بتدریج روس سے تیل کی خریداری میں کمی لا رہا ہے اور اس عمل میں امریکا بھارت کو مکمل تعاون فراہم کرے گا۔ اُنہوں نے عندیہ دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے آئندہ دنوں میں بھارتی مصنوعات پر عائد امریکی محصولات (ٹیرِفس) میں کمی کی جائے گی۔
فی الحال بھارت ہمیں زیادہ پسند نہیں کرتا، لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ جلد ہی دوبارہ امریکا کو پسند کرنے لگے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں بھارت کے ساتھ تعلقات میں کچھ سرد مہری ضرور آئی ہے، مگر نئے اقدامات سے یہ تعلقات دوبارہ گرمجوشی کی طرف بڑھیں گے۔اپنے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اور شام کے درمیان تعلقات بہتر ہو رہے ہیں اور امریکا اسرائیل کے ساتھ مل کر شام سے تعلقات میں بہتری کے لیے کام کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے امریکی حکومت کے "شٹ ڈاؤن” کے حوالے سے بھی اظہارِ خیال کیا اور دعویٰ کیا کہ انہیں ڈیموکریٹس کی حمایت حاصل ہے، لہٰذا یہ بحران جلد ختم ہو جائے گا۔ ان کے مطابق حکومت کے معمولات بہت جلد دوبارہ بحال ہو جائیں گے۔مزید برآں، صدر ٹرمپ نے بھارت کے لیے نئے امریکی سفیر کے تقرر کا اعلان بھی کیا۔ اُنہوں نے سرجیو گور (Sergio Gore) کو امریکا کا نیا سفیر مقرر کیا، جنہوں نے اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا ہے۔ اس تقرری کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی مضبوطی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ نیا تجارتی معاہدہ امریکا اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی معاشی قربت کا مظہر ہے اور مستقبل میں دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔