کینیڈا اور چین کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری تعاون کے نئے معاہدے، ٹیرف تنازع بدستور حل طلب

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا اور چین نے جمعرات کے روز دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے مقصد سے متعدد معاہدوں کا اعلان کیا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان جاری ٹیرف تنازع پر اب تک کوئی حتمی حل سامنے نہیں آیا۔ایشیا پیسیفک فاؤنڈیشن کی نائب صدر وینا نجب اللہ کے مطابق، یہ معاہدے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ دونوں ممالک گزشتہ ایک دہائی کے دوران تعطل کا شکار ادارہ جاتی روابط کو دوبارہ فعال کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہایہ اقدامات اس خواہش کی عکاسی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک تعلقات کو بحال اور مضبوط بنانا چاہتے ہیں، تاہم اگر سیاسی ماحول میں تبدیلی آئی تو یہ پیش رفت متاثر ہو سکتی ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدے تعاون کے امکانات تلاش کرنے کے لیے کھلے پن اور آمادگی کو ظاہر کرتے ہیں، اگرچہ ان میں ابھی کوئی واضح تفصیلات شامل نہیں ہیں۔

ٹیرف تنازع بدستور برقرار

کینیڈا اور چین کے تجارتی تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ، یعنی ٹیرف کا مسئلہ، اب تک حل نہیں ہو سکا۔ کینیڈا نے چینی الیکٹرک گاڑیوں، ایلومینیم اور اسٹیل پر ٹیکس عائد کیے تھے، جس کے جواب میں چین نے کینیڈین کینولا، سی فوڈ اور دیگر زرعی مصنوعات پر بھاری محصولات لگا دیے۔

بیجنگ کا مؤقف ہے کہ اگر کینیڈا الیکٹرک گاڑیوں پر عائد ٹیکس ختم کرے تو چین کینولا پر ٹیرف ہٹا دے گا۔ اٹلانٹک اور مغربی صوبوں کے وزرائےاعلیٰ اوٹاوا پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اس پیشکش پر غور کرے، جبکہ اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ کا کہنا ہے کہ یہ ٹیرف ملکی آٹو انڈسٹری میں ملازمتوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔وزیرِاعظم مارک کارنی کے دورۂ چین سے قبل کینیڈین حکام نے واضح کیا تھا کہ ٹیرف تنازع میں کچھ پیش رفت ممکن ہے، مگر فوری حل کی توقع نہیں کی جا رہی۔

وسیع اقتصادی مذاکرات اور روڈ میپ

دونوں ممالک نے ایک جامع “اقتصادی و تجارتی تعاون روڈ میپ” جاری کیا ہے، جس میں اقتصادی تعلقات کے فروغ کے شعبے اور تعاون کے امکانات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اس دستاویز میں زراعت، توانائی اور صارفین کی اشیا کے شعبوں میں باہمی سرمایہ کاری کی بات کی گئی ہے، جبکہ کچھ حساس شعبوں کو چینی سرمایہ کاری سے الگ رکھا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق، کینیڈا چین میں ایرو اسپیس اور جدید مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرے گا، تاہم چین کی جانب سے کینیڈا میں ان شعبوں میں سرمایہ کاری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دستاویز میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے شفافیت بہتر بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا ہے، جو امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات کے تناظر میں کینیڈا کی حکمتِ عملی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

توانائی میں تعاون کو ترجیح

توانائی، چاہے وہ صاف ہو یا روایتی، دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا مرکزی محور قرار دی گئی ہے۔ چین نے کینیڈا کو تیل، مائع قدرتی گیس (LNG) اور پیٹرولیم مصنوعات کے لیے ایک “اہم ممکنہ شراکت دار” قرار دیا ہے۔

دونوں ممالک نے قابلِ تجدید توانائی، خصوصاً آف شور ونڈ انرجی، میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس کے علاوہ، کینیڈا کے تیار کردہ کینڈو نیوکلیئر ری ایکٹرز کے حوالے سے بھی شراکت داری پر بات چیت شامل ہے۔

سیاحت، ثقافت اور عوامی روابط

سیاحت کے فروغ کے لیے بھی معاہدے کیے گئے ہیں، جن میں دونوں ممالک کے سیاحتی اداروں کے درمیان تعاون، مشترکہ تشہیری مہمات، اور 2026 فیفا ورلڈ کپ جیسے عالمی ایونٹس پر توجہ شامل ہے۔ثقافتی ورثے کے حوالے سے ایک مشترکہ کمیٹی بھی قائم کی جائے گی، جس میں دونوں ممالک کے وزرا ہر دو سال بعد ملاقات کریں گے۔

لکڑی، جانوروں کی صحت اور دیگر شعبے

برٹش کولمبیا کی حکومت نے چین کے ساتھ جدید لکڑی کی تعمیر کے فروغ کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد ماحول دوست عمارتوں کی تعمیر ہے۔جانوروں کی صحت اور پالتو جانوروں کی خوراک سے متعلق ایک معاہدہ بھی شامل ہے، جس کے تحت کینیڈا کو درپیش دیرینہ تجارتی رکاوٹوں پر بات چیت کی جائے گی۔

عالمی تجارت اور ڈبلیو ٹی او

معاہدے میں عالمی تجارتی تنظیم (WTO) پر مبنی قواعد کے نظام کی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے، حالانکہ دونوں ممالک اسے عملی طور پر مفلوج قرار دے چکے ہیں۔اس کے علاوہ، چین کی ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ میں شمولیت کی خواہش کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم کینیڈا نے واضح کیا ہے کہ رکنیت کے لیے سخت معیارات پورے کرنا ہوں گے، جن پر چین کے لیے پورا اترنا مشکل ہو سکتا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں