اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا طویل عرصے سے خود کو ایک کثیرالثقافتی کامیابی کی مثال کے طور پر پیش کرتا رہا ہے، تاہم ایک نئی تحقیق نے اس تصور پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ WPP Canada کی جانب سے جاری کردہ سروے “کینیڈا کی نئی آوازیں” میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک میں حالیہ برسوں میں آنے والے افراد کی بڑی تعداد خود کو امتیازی سلوک کا شکار محسوس کرتی ہے۔
اس تحقیق کے مطابق تقریباً نو میں سے آٹھ سے زیادہ نئے آنے والوں نے بتایا کہ انہوں نے کسی نہ کسی شکل میں امتیازی رویے کا سامنا کیا۔ یہ سروے دو ہزار اکیس کے بعد آنے والے افراد کے ڈیڑھ سو سے زائد تفصیلی انٹرویوز پر مبنی ہے، جس کا مقصد کاروباری اداروں کو ملک کی بدلتی آبادی کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔
رپورٹ کے مطابق امتیازی سلوک کی بڑی وجوہات میں نسل، زبان یا لہجہ، اور تعلیمی یا پیشہ ورانہ تجربے کو کم تر سمجھا جانا شامل ہیں۔ تقریباً اکتیس فیصد واقعات میں زبان اور لہجے کو براہ راست وجہ قرار دیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر اسی فیصد تک معاملات میں یہ عوامل پس منظر میں اہم کردار ادا کرتے پائے گئے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بہت سے نئے آنے والوں کو اپنی شناخت کے حوالے سے کشمکش کا سامنا ہے۔ ان کے نزدیک کینیڈین ہونا تاریخی علامات یا روایات سے زیادہ اقدار جیسے مہربانی، انصاف اور شمولیت سے جڑا ہوا ہے۔ تاہم، بعض افراد کا کہنا ہے کہ حقیقی معنوں میں اس معاشرے کا حصہ بننے کے لیے یہاں پیدا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے، جسے ماہرین نے “پیدائشی رکاوٹ” قرار دیا ہے۔
مزید برآں، اس احساسِ بیگانگی کے باعث ایک واضح تقسیم بھی پیدا ہو رہی ہے۔ تحقیق کے مطابق تقریباً ایک چوتھائی نئے آنے والے افراد سماجی میل جول کم کر کے اپنی ہی برادریوں تک محدود ہو رہے ہیں، جس سے ان کے مواقع اور تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب، تقریباً ایک تہائی افراد ہر قیمت پر خود کو معاشرے میں ضم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حتیٰ کہ اس عمل میں اپنی شناخت کے کچھ حصے بھی کھو دیتے ہیں۔ صرف چھیالیس فیصد افراد ایسے ہیں جو ایک متوازن راستہ اختیار کرنے میں کامیاب ہوئے۔
یہ بڑھتا ہوا احساسِ عدم وابستگی اب اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ کئی نئے آنے والے افراد کینیڈا میں مستقل قیام کے فیصلے پر بھی نظرثانی کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق صرف انتیس فیصد افراد نے کہا کہ وہ مستقل طور پر وہیں رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال پر سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرہ زیادہ شمولیتی بن سکے اور نئے آنے والوں کو درپیش چیلنجز کو کم کیا جا سکے۔