اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) این ایچ ایل کادسمبر 2025 کے مہینے کے لیے بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان
جن میں کینیڈا کے تین ممتاز سینٹرز کونر میک ڈیویڈ، نیتھن میک کنن اور میکلن سیلیبرینی شامل ہیں۔ یہ تینوں کھلاڑی نہ صرف این ایچ ایل میں اپنی شاندار پرفارمنس کی بدولت نمایاں رہے بلکہ آئندہ ماہ اٹلی کے شہر میلان اور کورتینا میں ہونے والے ونٹر اولمپکس میں بھی کینیڈا کی نمائندگی کریں گے، جس سے ان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ایڈمنٹن آئلرز کے کپتان کونر میک ڈیویڈ نے دسمبر کے مہینے میں غیر معمولی کھیل پیش کرتے ہوئے لیگ میں سب سے زیادہ پوائنٹس حاصل کیے۔ انہوں نے اس دوران 13 گولز اور 21 اسسٹ کے ساتھ مجموعی طور پر 34 پوائنٹس بنائے، جو کسی بھی کھلاڑی کی جانب سے اس مہینے کی سب سے بہترین کارکردگی تھی۔ میک ڈیویڈ نے سال کے اختتام پر مسلسل 14 میچز میں پوائنٹس حاصل کر کے اپنی شاندار فارم کا ثبوت دیا اور این ایچ ایل کے مداحوں کو ایک بار پھر متاثر کیا۔
میک ڈیویڈ کی یہ کارکردگی اس لیے بھی خاص سمجھی جا رہی ہے کیونکہ انہوں نے ایک مہینے میں اتنے زیادہ پوائنٹس حاصل کیے جو اس سے قبل کئی دہائیوں میں کم ہی دیکھنے میں آئے۔ ماہرین کے مطابق ان کی دسمبر کی پرفارمنس کا موازنہ این ایچ ایل کے عظیم کھلاڑی ماریو لیمیو کی 1995 کی تاریخی کارکردگی سے کیا جا رہا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ میک ڈیویڈ کس سطح کا کھیل پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب کولوراڈو ایولانچ کے اسٹار کھلاڑی نیتھن میک کنن نے بھی دسمبر میں شاندار کھیل پیش کیا۔ انہوں نے 14 میچز میں 14 گولز اور 12 اسسٹ کے ذریعے 26 پوائنٹس حاصل کیے اور لیگ کے دوسرے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ میک کنن کی قیادت میں کولوراڈو ایولانچ پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست رہی اور ان کی ٹیم نے مسلسل فتوحات حاصل کیں، جس میں میک کنن کا کردار فیصلہ کن رہا۔
نیتھن میک کنن کی طاقتور اسکیٹنگ، تیز رفتار کھیل اور دباؤ کے لمحات میں گول کرنے کی صلاحیت نے انہیں این ایچ ایل کے خطرناک ترین کھلاڑیوں میں شامل کر دیا ہے۔ ان کی حالیہ فارم کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا خیال ہے کہ وہ آنے والے اولمپکس میں کینیڈا کے لیے ایک اہم ستون ثابت ہو سکتے ہیں اور ٹیم کی کامیابی میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔سان ہوزے شارکس کے نوجوان فارورڈ میکلن سیلیبرینی نے بھی دسمبر کے مہینے میں سب کو حیران کر دیا۔ اپنے دوسرے این ایچ ایل سیزن میں کھیلنے والے اس کھلاڑی نے 14 میچز میں 25 پوائنٹس حاصل کیے، جن میں 8 گولز اور 17 اسسٹ شامل تھے۔ سیلیبرینی نے مہینے کے اختتام پر مسلسل 9 میچز میں پوائنٹس حاصل کیے، جو ان کی مستقل مزاجی اور بڑھتے ہوئے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔
سیلیبرینی کو حال ہی میں کینیڈا کی مکمل اولمپک ٹیم میں شامل کیا گیا، جسے ہاکی کینیڈا نے جاری کیا تھا۔ ان کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ کینیڈا نہ صرف تجربہ کار کھلاڑیوں بلکہ نوجوان ٹیلنٹ پر بھی بھرپور اعتماد کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق سیلیبرینی مستقبل میں کینیڈین ہاکی کا ایک بڑا نام بن سکتے ہیں۔
دسمبر کے اختتام پر کونر میک ڈیویڈ اور نیتھن میک کنن 2026 کے آغاز میں این ایچ ایل میں اسکورنگ کے لحاظ سے مشترکہ طور پر پہلے نمبر پر موجود تھے، دونوں کے پوائنٹس کی تعداد 70 رہی، جبکہ میکلن سیلیبرینی 62 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ ان اعداد و شمار نے واضح کر دیا کہ یہ تینوں کھلاڑی اس وقت لیگ کے سب سے خطرناک اور مؤثر کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔
این ایچ ایل کے کھلاڑیوں کی ونٹر اولمپکس میں واپسی کو عالمی ہاکی کے لیے ایک بڑی خبر قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ آخری بار لیگ کے اسٹار کھلاڑی 2014 کے سوچی اولمپکس میں شریک ہوئے تھے۔ اس بار شائقین کو ایک دہائی کے بعد ایک مرتبہ پھر دنیا کے بہترین ہاکی کھلاڑیوں کو اولمپک اسٹیج پر کھیلتے دیکھنے کا موقع ملے گا۔
کینیڈا اپنی اولمپک مہم کا آغاز 12 فروری کو چیکیا کے خلاف میچ سے کرے گا، اور شائقین کو امید ہے کہ میک ڈیویڈ، میک کنن اور سیلیبرینی جیسے کھلاڑی ٹیم کو سونے کے تمغے کے قریب لے جائیں گے۔ ان تینوں کی دسمبر کی شاندار کارکردگی نے کینیڈا کی امیدوں کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
دوسری جانب این ایچ ایل نے دسمبر کے مہینے کے بہترین روکی کھلاڑی کا اعزاز مونٹریال کینیڈینز کے فارورڈ آئیون ڈیمیڈوف کو دیا ہے۔ ڈیمیڈوف نے 15 میچز میں 4 گولز اور 10 اسسٹ کے ساتھ مجموعی طور پر 14 پوائنٹس حاصل کیے اور روکی کھلاڑیوں میں سب سے نمایاں رہے۔ ان کی کارکردگی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ مستقبل میں این ایچ ایل کے اہم کھلاڑیوں میں شمار ہو سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر دسمبر 2025 این ایچ ایل کے لیے ایک یادگار مہینہ ثابت ہوا، جہاں ایک طرف تجربہ کار سپر اسٹارز نے اپنی برتری قائم رکھی، وہیں نوجوان کھلاڑیوں نے بھی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔ کونر میک ڈیویڈ، نیتھن میک کنن اور میکلن سیلیبرینی کی کامیابیاں نہ صرف انفرادی اعزازات ہیں بلکہ یہ کینیڈا کی اولمپک تیاریوں کے لیے بھی ایک مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہیں۔