اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا کے وزیر برائے مصنوعی ذہانت ایون سولومن کا کہنا ہے کہ کینیڈا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر پابندی لگانے پر غور نہیں کر رہا، تاہم ان کے دفتر کے مطابق ایکس سے جڑے ڈیپ فیک تنازع پر بات چیت جاری ہے،ایلون مسک کی ملکیت اس پلیٹ فارم کو حالیہ ہفتوں میں شدید عالمی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کی وجہ ایکس کے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ گروک (Grok) کے ذریعے بنائی گئی جنسی نوعیت کی ڈیپ فیک تصاویر اور ویڈیوز ہیں۔
ہفتے کے روز دی ٹیلی گراف نے رپورٹ کیا کہ برطانیہ کی حکومت اس تنازع کے جواب میں بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ کینیڈا نے بھی برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کے تحفظات سے اتفاق کیا ہے۔
برطانیہ کا ریگولیٹری ادارہ آف کام (Ofcom) اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں ایکس کو برطانیہ میں پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
اتوار کی آدھی رات کے فوراً بعد، ایون سولومن نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ میڈیا رپورٹس کے برعکس، کینیڈا ایکس پر پابندی لگانے پر غور نہیں کر رہا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا حکومت کسی اور اقدام پر غور کر رہی ہے یا برطانیہ یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی مشترکہ ردِعمل پر کام کر رہی ہے، تو سولومن کے ترجمان نے کہا کہ اس حوالے سے مزید معلومات جلد فراہم کی جائیں گی۔سوفیا اوسلس نے بتایا کہ اس معاملے پر “اتحادی حکومتوں کے ساتھ اور کینیڈین حکومت کے مختلف محکموں میں بات چیت جاری ہے۔تنازع کے باوجود، لبرل حکومت ایکس کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایکس پر ایک اور پوسٹ میں، سولومن نے گزشتہ سال کے آخر میں متعارف کرائے گئے ایک حکومتی بل کی طرف اشارہ کیا، جس کے تحت جنسی نوعیت کے ڈیپ فیک مواد کو مجرمانہ فعل قرار دیا جائے گا۔
انہوں نے لکھاجنسی ڈیپ فیک بدسلوکی تشدد کے مترادف ہے۔ ہمیں کینیڈین شہریوں، خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کو استحصال سے بچانا ہوگا۔ پلیٹ فارمز اور اے آئی ڈویلپرز پر لازم ہے کہ وہ اس نقصان کو روکیں۔”
گروک کو یورپی یونین کے ایگزیکٹو ادارے سمیت فرانس، بھارت اور برازیل جیسے ممالک کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔ہفتے کے اختتام پر، ملائیشیا اور انڈونیشیا نے اعلان کیا کہ وہ گروک تک رسائی بند کر دیں گے۔
گروک امیجن (Grok Imagine)، جو ایک اے آئی امیج جنریٹر ہے اور صارفین کو ٹیکسٹ کمانڈز کے ذریعے تصاویر اور ویڈیوز بنانے کی سہولت دیتا ہے، گزشتہ سال متعارف کرایا گیا تھا۔ اس میں ایک نام نہاد “اسپائسی موڈ” بھی شامل ہے، جو بالغوں کے لیے مواد تیار کر سکتا ہے۔
گزشتہ ماہ کے آخر میں، گروک نے بظاہر صارفین کی بڑی تعداد کی جانب سے دوسروں کی پوسٹ کردہ تصاویر میں تبدیلی کی درخواستیں قبول کرنا شروع کر دی تھیں۔
حالیہ دنوں میں، ایکس نے گروک کی امیج جنریشن کی سہولت پر کچھ پابندیاں عائد کر دی ہیں، اور اب ایکس پر تصاویر بنانے کی اجازت صرف ادائیگی کرنے والے صارفین کو دی جا رہی ہے۔