ایک طرف جنگ بندی دوسری طرف قبضے کا قانون، اسرائیل کا  فلسطینیوں کے حقوق پر کھلا وار

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) اسرائیلی پارلیمنٹ نے مقبوضہ مغربی کنارے (West Bank) کو اسرائیل میں ضم کرنے کے متنازع اور غیر قانونی بل کی ابتدائی منظوری دے کر ایک بار پھر دنیا بھر کو یہ پیغام دیا ہے کہ تل ابیب امن کے نام پر محض سیاسی کھیل کھیل رہا ہے۔

120 رکنی کنیسٹ میں صرف 25 ارکان نے بل کے حق میں اور 24 نے مخالفت میں ووٹ دیا، لیکن یہ معمولی اکثریت بھی اتنی خطرناک ہے کہ اس سے پورے خطے میں امن کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ بل اب مزید غور کے لیے **خارجہ و دفاعی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ایک طرف اسرائیل غزہ میں جنگ بندی پر بات چیت کے اشارے دیتا ہے، امریکہ کے نائب صد رجے ڈی وینس تل ابیب پہنچ کر فائر بندی کے معاہدے کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیںاور دوسری طرف اسرائیلی قیادت عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے فلسطینی علاقوں پر قبضے کو قانونی شکل دینے کے منصوبے پر گامزن ہے۔یہ دوغلا رویہ نہ صرف امن مذاکرات کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل “جنگ بندی” کے الفاظ کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ دنیا کی توجہ فلسطینی سرزمین پر اپنے غیر قانونی اقدامات سے ہٹائی جا سکے۔
سعودی عرب نے اس اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے “جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم” قرار دیا ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق اسرائیلی آبادکاری بین الاقوامی قانون اور انسانی اصولوں کے منافی ہے۔قطر نے بھی اسرائیلی پارلیمنٹ کے اقدام کو فلسطینی عوام کے حقوق کی تردید قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ کو اسرائیل کو اس توسیع پسندانہ منصوبے سے باز رکھنا چاہیے۔دونوں ممالک نے ایک مرتبہ پھر **دو ریاستی حل** کی حمایت کا اعادہ کیا — یعنی فلسطینیوں کو اپنی آزاد ریاست کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی نائب صدر اسی وقت اسرائیل میں موجود ہیں جب یہ متنازع بل منظور ہوا۔اگرچہ امریکی صدر پہلے ہی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کو مغربی کنارے پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے، لیکن عملی طور پر واشنگٹن کی پالیسی اب بھی غیر واضح ہے۔
اگر امریکہ واقعی امن کا خواہاں ہے تو اسے صرف زبانی بیانات کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے  مثلاً اسرائیلی قیادت پر سفارتی دباؤ، سلامتی کونسل میں سخت مؤقف، اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے واضح حمایت۔مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کا بل بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔اقوام متحدہ، عالمی عدالتِ انصاف اور بیشتر مغربی ممالک اس علاقے کو مقبوضہ علاقہ تسلیم کرتے ہیں۔ایسے میں اسرائیلی پارلیمنٹ کا یہ اقدام نہ صرف جنیوا کنونشن بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی بھی نفی کرتا ہے۔یہ بل دراصل ایک سیاسی اعلان ہے — کہ اسرائیل اب عالمی اصولوں کے بجائے طاقت کے زور پر اپنی مرضی مسلط کرنے کا عزم رکھتا ہے۔

 

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں