اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)اونٹاریو میں EQAO کے سالانہ ٹیسٹ نتائج عام طور پر والدین، اساتذہ اور تعلیمی ماہرین کے لیے طلبہ کی کارکردگی کا اہم پیمانہ سمجھے جاتے ہیں۔ مگر اس بار فورڈ حکومت نے نتائج کو اب تک جاری نہ کرکے نئی بحث چھیڑ دی ہے، اور ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل صاف شفاف نہیں لگتا۔
ایجوکیشن کوالٹی اینڈ اکاؤنٹیبلٹی آفس (EQAO) گریڈ 3 سے 6 تک کے طلبہ کے پڑھنے، لکھنے اور ریاضی کے سالانہ ٹیسٹ لیتا ہے، جبکہ گریڈ 9 اور 10 کے طلبہ لٹریسی ٹیسٹ دیتے ہیں۔ نتائج عام طور پر ستمبر کے آخر میں جاری ہوتے ہیں، مگر اس سال حکومت کا کہنا ہے کہ وہ خود ڈیٹا کا “گہرائی سے جائزہ” لے رہی ہے۔
وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ کے مطابق انہیں نتائج بہت بہتر نظر آنے چاہئیں، اور حکومت مستقبل کی ضرورتوں جیسے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) پر خاص توجہ دینا چاہتی ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیں :اونٹاریو حکومت نے ایلون مسک کی کمپنی کے ساتھ 100 ملین ڈالر کا معاہدہ منسوخ کر دیا
وزیر تعلیم پال کیلینڈرا نے کہا کہ تاخیر کی ذمہ داری وہ خود لیتے ہیں کیونکہ انہوں نے پہلے ڈیٹا کو تفصیل سے دیکھنے پر زور دیا تھا۔ تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ نتائج “جلد جاری” کیے جائیں گے۔
حکومت کے اس فیصلے نے شفافیت کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ تاخیر حکومت کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ نتائج کو اپنی مرضی کے مطابق پیش کرے۔
اونٹاریو این ڈی پی کی تعلیمی ناقد چاندرا پَسما نے کہا کہ حکومت مسلسل دعویٰ کرتی رہی ہے کہ اس کے بجٹ میں کٹوتیوں نے اسکولوں کو متاثر نہیں کیا۔ اگر نتائج بہتر نہ ہوئے تو یہ بیانیہ کمزور پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ابتدائی جماعتوں کے اساتذہ اس پوری صورتحال کو موقع سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ معیاری ٹیسٹنگ کو ہی ختم کر دینا چاہیے کیونکہ یہ طلبہ کے سیکھنے کے عمل کی مکمل تصویر نہیں دکھاتی۔ای ٹی ایف او کی نائب صدر شرلی بیل کے مطابق اساتذہ خود طلبہ کی کارکردگی جانچنے اور تدریس میں تبدیلی لانے میں زیادہ بہتر کردار ادا کرتے ہیں۔
عام حالات میں یہ نتائج اسکول بورڈز کو اگلے اقدامات طے کرنے میں مدد دیتے ہیں، لیکن چونکہ حکومت کچھ بورڈز کو براہِ راست کنٹرول کر رہی ہے، اس بار حقیقی جواب حکومت ہی سے متوقع ہے۔