اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)اونٹاریو کے قانون ساز اسمبلی کے اراکین (MPPs) جلد ہی بل 33 پر ووٹ دیں گے، جو صوبے کے تعلیمی نظام میں اہم اور متنازعہ تبدیلیاں لانے والا ہے۔ یہ بل تعلیم، والدین کے حقوق اور طلبہ کی فلاح و بہبود سے متعلق متعدد نئے اقدامات متعارف کراتا ہے، جس پر سیاستدانوں اور کمیونٹی گروپوں کے درمیان زبردست بحث جاری ہے۔
حامیوں کا کہنا ہے کہ بل 33 تعلیمی معیار کو بہتر بنانے، اساتذہ کے لیے انتظامی عمل کو آسان کرنے اور طلبہ کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد کرے گا۔ تاہم ناقدین کا خیال ہے کہ یہ بل بعض فیصلوں میں والدین اور کمیونٹی کی رائے کو محدود کر دیتا ہے اور طلبہ کے حقوق پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ کئی تعلیمی ماہرین نے بھی اس بل پر تحفظات ظاہر کیے ہیں اور کہا ہے کہ اس کے نفاذ سے پہلے عوامی مشاورت ضروری ہے۔
اس ووٹنگ سے قبل مختلف سیاسی جماعتیں اور کمیونٹی گروپس بل کے حق اور مخالفت میں مہم چلا رہے ہیں۔ بل کی حمایت کرنے والے اراکین اسمبلی کا کہنا ہے کہ بل تعلیمی نظام کی جدید ضروریات کے مطابق ہے اور اس سے آنٹاریو کے اسکولوں کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب مخالفین کا کہنا ہے کہ بل کی کچھ شقیں طلبہ کی نجی زندگی اور والدین کے اختیار میں مداخلت کرتی ہیں، جس پر سنجیدہ غور کرنا ضروری ہے۔
سیاستدانوں کے مطابق بل 33 کی منظوری یا ناکامی نہ صرف آنٹاریو کے تعلیمی نظام پر اثر ڈالے گی بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے تعلیمی پالیسیوں کی سمت بھی متعین کرے گی۔ ووٹ کے نتیجے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ صوبے کی حکومت اور اسمبلی کس حد تک تعلیمی اصلاحات کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بل پر ہونے والا فیصلہ والدین، اساتذہ اور طلبہ کے درمیان تعلقات اور اسکولوں کی کارکردگی پر دیرپا اثر ڈال سکتا ہے، اسی لیے عوام اور میڈیا کی توجہ اس عمل پر مرکوز ہے۔