اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے
جہاں ایران نے “آپریشن وعدہ صادق 4” کے تحت حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اس تازہ کارروائی میں خطے میں امریکا سے منسلک تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جسے آپریشن کی 63ویں لہر قرار دیا جا رہا ہے۔ایرانی میڈیا اور سرکاری بیانات کے مطابق یہ کارروائی حالیہ حملوں میں شہید ہونے والے وزیرِ انٹیلی جنس اور دیگر انٹیلی جنس اہلکاروں کے نام منسوب کی گئی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کا مقصد ابتدا میں جنگ کو تیل کی تنصیبات تک پھیلانا نہیں تھا اور نہ ہی وہ خطے کے دوست اور ہمسایہ ممالک کی معیشت کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا۔
تاہم بیان میں مزید کہا گیا کہ ایرانی توانائی تنصیبات پر حملوں کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے اور اب یہ تنازع ایک “نئے مرحلے” میں داخل ہو گیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایران اپنے اہم توانائی ڈھانچے کے دفاع کے لیے مجبور ہو چکا ہے اور اسی تناظر میں امریکا اور اس سے منسلک کمپنیوں یا شیئر ہولڈرز کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے سے نہ صرف خطے میں سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے بلکہ عالمی تیل منڈیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر کشیدگی میں اضافہ جاری رہا تو اس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔تاحال امریکا یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے اس تازہ دعوے پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔