اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر کیلگری میں جاری ایک تازہ بلدیاتی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر فوری طور پر اضافی مالی وسائل فراہم نہ کیے گئے تو آئندہ دس برسوں میں تقریباً ایک ہزار کھیل کے میدان ختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شہر کے کھیل کے میدانوں کا بڑا حصہ شدید خستہ حالی کا شکار ہے اور ان میں سے اسی فیصد سے زیادہ میدان یا تو اپنی عمر پوری کر چکے ہیں یا اس کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنے اور بچوں کے لیے محفوظ کھیل کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری درکار ہے۔ اگر تقریباً بیس کروڑ ڈالر کے برابر رقم فراہم نہ کی گئی تو شہر بھر میں کھیل کے میدانوں کی بڑی تعداد بند کرنا پڑ سکتی ہے، جس سے بچوں کی تفریح اور جسمانی سرگرمیوں پر منفی اثر پڑے گا۔
مقامی پارک میں آنے والے شہریوں نے اس امکان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ کھیل کے میدان بچوں کی صحت، نشوونما اور سماجی سرگرمیوں کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ایک شہری نے کہا کہ ان سہولیات کے بغیر بچے زیادہ وقت برقی آلات پر گزاریں گے، جو ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
شہر کے ناظم کے مطابق یہ مسئلہ صرف کھیل کے میدانوں تک محدود نہیں بلکہ شہر کی مجموعی ترقی اور منصوبہ بندی سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی تعمیر اور توسیع کے طریقۂ کار میں تبدیلی لانا ہوگی تاکہ ایسی سہولیات کو بہتر انداز میں برقرار رکھا جا سکے اور نکاسیٔ آب جیسے مسائل بھی حل کیے جا سکیں۔
بلدیاتی نمائندوں نے کہا کہ مختلف علاقوں میں کھیل کے میدانوں کی دستیابی میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے، اس لیے ہر علاقے کی ضروریات کے مطابق فیصلے کرنا ضروری ہیں۔ مزید یہ بھی تجویز دی گئی کہ مالی وسائل کے حصول کے لیے متبادل ذرائع اختیار کیے جائیں، جیسے مخیر حضرات کے تعاون سے کھیل کے میدانوں کی مرمت اور تعمیر۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت شہر میں ہر ایک ہزار بچوں کے لیے اوسطاً پانچ کھیل کے میدان موجود ہیں، جو کئی دیگر شہروں کے مقابلے میں بہتر شرح ہے۔ تاہم ان میں سے نصف سے زیادہ میدان بیس برس سے زائد پرانے ہو چکے ہیں اور جلد ہی اپنی مدت پوری کر لیں گے۔
اگر متعلقہ کمیٹی اس تجویز کی منظوری دے دیتی ہے تو حتمی فیصلہ مکمل شہری مجلس کرے گی۔ اس فیصلے کے بعد ہی یہ طے ہوگا کہ آیا شہر اپنی آئندہ نسلوں کے لیے ان اہم عوامی سہولیات کو برقرار رکھ پائے گا یا نہیں۔