اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے علاقے اوک وُڈ ولیج میں ایک گھر کے مالک نے ایک ترقیاتی کمپنی پر بغیر اجازت اس کی زمین میں داخل ہو کر درخت کاٹنے کی کوشش کا سنگین الزام عائد کیا ہے، جس کے بعد معاملہ مقامی سطح پر خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔
گھر کے مالک ایان پیئرسن کے مطابق موڈسٹی نامی کمپنی کے کارکنان چینسا لے کر ان کے گھر کے پچھلے حصے میں داخل ہوئے اور درخت کاٹنے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ کارکنان نے باڑ کے دو حصے بھی ہٹا دیے تھے تاکہ درخت تک آسانی سے رسائی حاصل کی جا سکے۔
پیئرسن کے مطابق کمپنی کو یہ باور کرایا گیا تھا کہ درخت دراصل پڑوسی کی زمین میں واقع ہے، اور ان کی باڑ غلط جگہ پر تعمیر کی گئی ہے، اس لیے وہ درخت کاٹنے کے مجاز ہیں۔ تاہم پیئرسن اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ان کی ملکیت میں آتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مذکورہ کمپنی نے ان کے گھر کے عقب میں واقع مکان خریدا ہے اور وہاں بڑے پیمانے پر تعمیراتی منصوبہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس میں چار رہائشی یونٹس اور ایک اضافی رہائشی یونٹ شامل ہے۔ پیئرسن کے مطابق ان کا درخت اس منصوبے میں رکاوٹ بن رہا ہے، اسی لیے اسے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
واقعے کے وقت پیئرسن اور ان کی اہلیہ گھر پر موجود نہیں تھے، تاہم ان کے ایک دوست نے، جو گھر کی نگرانی کر رہا تھا، کارکنان کو روکنے کی کوشش کی۔ پیئرسن کا کہنا ہے کہ اگر ان کا دوست وہاں موجود نہ ہوتا تو شاید وہ واپسی پر اپنا درخت مکمل طور پر کٹا ہوا پاتے۔
ٹورنٹو کے بلدیاتی قوانین کے مطابق کسی بھی بالغ درخت کو کاٹنے پر ایک لاکھ ڈالر تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ شہر کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ موڈسٹی کے خلاف درخت کاٹنے کے مزید تین معاملات کی تحقیقات جاری ہیں۔
مقامی کونسلر جوش میٹلو نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد ہونا چاہیے اور اگر کمپنیاں دوسروں کے حقوق کا احترام نہیں کرتیں تو انہیں مالی جرمانوں کے ذریعے سبق سکھایا جانا چاہیے۔
دوسری جانب کمپنی کے ذمہ دار رون شینن نے ابتدائی طور پر اس معاملے پر لاعلمی کا اظہار کیا، تاہم بعد میں اپنا بیان واپس لے لیا، جس سے مزید سوالات جنم لے رہے ہیں۔
پیئرسن نے اب اپنی باڑ کے متاثرہ حصے پر تالا لگا دیا ہے تاکہ آئندہ کوئی بھی بغیر اجازت ان کی زمین میں داخل نہ ہو سکے اور وہ اپنے درخت کو محفوظ رکھ سکیں۔