اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے تنازع کے دوران پاکستانی فضائیہ کی مؤثر اور جدید کارکردگی نے عالمی سطح پر پاکستان کے دفاعی نظام کی ساکھ کو مضبوط کیا ہے۔ ان کے مطابق اس کارکردگی کے بعد مختلف ممالک کی جانب سے پاکستان کو دفاعی ساز و سامان کے آرڈرز موصول ہو رہے ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ مئی کے تنازع میں پاکستانی فضائیہ نے نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ پاکستان کے جنگی طیارے جدید ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر لیس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی طیارے عملی میدان میں آزمائے جا چکے ہیں اور ان کی کارکردگی نے عالمی دفاعی مارکیٹ میں دلچسپی پیدا کی ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق اگر یہ دفاعی آرڈرز کامیابی سے مکمل ہو گئے تو پاکستان کو آئندہ چھ ماہ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مالی امداد لینے کی ضرورت بھی پیش نہیں آ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ آرڈرز دراصل پاکستانی افواج کی صلاحیتوں پر بین الاقوامی اعتماد کا اظہار ہیں اور مئی 2025 کے واقعات کے بعد پاکستان کی عالمی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے۔
خواجہ آصف نے اس موقع پر بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق مئی میں دیے گئے جواب نے واضح کر دیا تھا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے دوبارہ کسی قسم کی جارحیت کی تو پاکستان اسی مضبوطی اور یکجہتی کے ساتھ جواب دے گا، جیسا کہ ماضی میں دیا گیا۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ مئی کے تنازع کے بعد خطے میں طاقت کا توازن واضح ہو چکا ہے اور دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ پاکستان دفاعی لحاظ سے ایک مضبوط اور ذمہ دار ریاست ہے، جو امن کی خواہاں ہے لیکن اپنی سلامتی پر کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کرے گی۔