اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے کی پیشکش کر دی
پاکستان نے خود کو ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ کے خاتمے کیلئے مرکزی ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد پس پردہ سفارتی رابطوں کے ذریعے دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، جسے خطے میں امن کے قیام کیلئے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت اس معاملے میں سرگرم عمل ہے۔ بتایا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور ممکنہ سفارتی حل پر بات چیت کی گئی۔ دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ایرانی صدر **ابراہیم رئیسی** سے ٹیلیفونک گفتگو کر کے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق پاکستان اپنی منفرد پوزیشن کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں ایک طرف اس کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب امریکہ کے ساتھ بھی سفارتی روابط موجود ہیں۔ اسی بنیاد پر پاکستان بیک چینل رابطوں کے ذریعے ایرانی حکام اور امریکی نمائندوں کے درمیان رابطے بحال کروانے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ براہ راست مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔
مزید اطلاعات کے مطابق پاکستان نے یہ پیشکش بھی کی ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں اعلیٰ سطحی امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی اسلام آباد میں کر سکتا ہے۔ اگر یہ پیش رفت کامیاب ہوتی ہے تو پاکستان ایک بار پھر عالمی سطح پر اہم سفارتی کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔دوسری جانب امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے مثبت بیانات سامنے آئے ہیں، تاہم ایران نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے بیانات کا مقصد اپنے مفادات کا تحفظ اور عالمی دباؤ کو کم کرنا ہے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی غیر سنجیدہ یا یکطرفہ بات چیت کا حصہ نہیں بنے گا۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی یہ پیشکش نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ یہ عالمی سفارتکاری میں اسلام آباد کے کردار کو بھی مضبوط بنا سکتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں جہاں جنگ کے خطرات بڑھ رہے ہیں، وہاں ایسے اقدامات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے جو مذاکرات اور امن کی طرف راستہ ہموار کریں۔