اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان کو توانائی کے شعبے میں اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے، جہاں قطر انرجی سے طویل مدتی معاہدے کے تحت ایل این جی کا نیا کارگو حاصل کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارگو ایسے وقت میں پاکستان پہنچ رہا ہے جب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔
نئے ایل این جی کارگو کی آمد سے ملک میں گیس کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے اور توانائی کے تحفظ کو مضبوط کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
ایل این جی جہاز آبنائے ہرمز عبور کر گیا
حکام کے مطابق قطر انرجی کا ایل این جی جہاز آبنائے ہرمز کو کامیابی سے عبور کرتے ہوئے پاکستانی پانیوں میں داخل ہونے والا ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق موجودہ علاقائی صورتحال میں آبنائے ہرمز سے توانائی کی ترسیل ایک اہم معاملہ بن چکا ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی تجارت اسی راستے سے ہوتی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ کارگو اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ اس سے موسم اور طلب کے دباؤ کے دوران گیس کی دستیابی برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدہ
یہ ایل این جی کارگو پاکستان اور قطر کے درمیان حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) طویل مدتی معاہدے کے تحت فراہم کیا جا رہا ہے۔
معاہدے کے مطابق ایل این جی کی قیمت برینٹ کروڈ کے 13.37 فیصد کے حساب سے طے کی گئی ہے، جو عالمی اسپاٹ مارکیٹ کے مقابلے میں کم قیمت قرار دی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ طویل مدتی معاہدے پاکستان کو قیمتوں میں اچانک اضافے کے اثرات سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔
اسپاٹ مارکیٹ میں قیمتیں بلند
عالمی مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔حکام کے مطابق اسپاٹ مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتیں 22 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ اگر پاکستان نئی اسپاٹ بولیاں طلب کرتا تو قیمت 23.5 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے بھی زیادہ ہونے کا امکان تھا۔
ایسے حالات میں قطر سے طویل مدتی معاہدے کے تحت ملنے والا کارگو پاکستان کے لیے مالی طور پر بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
حکومت کی کوششیں
سینئر حکام کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے حکام نے ایل این جی کارگو کی محفوظ آمد کے لیے اقدامات کی نگرانی کی۔
حکام کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود کارگو کی روانگی اور آمد کے معاملات کو مؤثر انداز میں منظم کیا گیا۔
توانائی بحران سے بچاؤ کی کوشش
پاکستان طویل عرصے سے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی گیس پر انحصار کرتا ہے۔ بجلی کی پیداوار، صنعتوں اور گھریلو صارفین کے لیے ایل این جی کی فراہمی انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق قطر کے ساتھ معاہدے پاکستان کو توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں استحکام فراہم کرتے ہیں اور عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
علاقائی صورتحال میں اہم پیش رفت
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی کی عالمی منڈی پر مسلسل دباؤ موجود ہے۔ ایسے میں پاکستان کے لیے ایل این جی کارگو کی بروقت آمد کو اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی توانائی کے تحفظ کے لیے طویل مدتی معاہدوں، مقامی وسائل کے بہتر استعمال اور سپلائی چین کو مضبوط بنانے پر توجہ جاری رکھی جائے گی۔