اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)پاکستان نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی سفارتی مہارت کا لوہا منوایا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے تمام چیلنجز کے باوجود بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے مسئلے کے حل کے لیے اپنی عزم کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی جریدے فرسٹ پوسٹ نے بھی پاکستان کی ایران کے لیے مخلصانہ کوششوں کو سراہا اور اعتراف کیا کہ پاکستان نے مشکل حالات میں ڈائیلاگ کو فروغ دینے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ جریدے کے مطابق پاکستان کے یہ اقدامات ایران کے لیے سہارا بنے اور ایران نے پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے کر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
مزید برآں، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب نے بھی پاکستان کے قائدانہ کردار کو سراہا اور امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے میں پاکستان کی ثالثی کو قابل قدر قرار دیا۔ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے پاکستانی سفارتی کامیابی واضح ہوئی اور ایران کی تشفی بھی حاصل ہوئی۔
عالمی ماہرین کے مطابق پاکستان کا یہ مخلصانہ کردار خاص طور پر بھارت کے رویے کے برعکس ہے، جہاں مودی نے ایران پر ممکنہ حملے سے چند روز قبل اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فرق ایران کے لیے واضح ہے کہ ایک مخلص بھائیانہ رویہ اور خودغرض ہندوتوا پالیسی کے حامل بھارت کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔
یہ پیش رفت پاکستان کی سفارتی مہارت اور عالمی امن میں کردار کو نمایاں کرنے کے ساتھ ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ اعتماد قائم کرنے میں بھی اہم ہے۔