اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اہم سفارتی کامیابی سامنے آئی ہے
جہاں Pakistan کی مؤثر سفارتکاری کے نتیجے میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ذرائع کے مطابق Iran نے پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز کو باضابطہ طور پر قبول کر لیا ہے، جبکہ ایران کی اعلیٰ قیادت، بشمول نئے سپریم لیڈر، نے بھی اس فیصلے کی منظوری دے دی ہے۔ اس پیشرفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی صدر Donald Trump کی ایران مخالف بیان بازی کے باوجود بالآخر امریکہ کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ ایرانی وزیر خارجہ Abbas Araqchi نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران پر حملے بند کیے جائیں تو ایران بھی جوابی کارروائی روک دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے دو ہفتوں تک محفوظ بحری گزرگاہ ممکن ہے، بشرطیکہ ایرانی فوج کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا جائے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی بعض شرائط کو قبول کر لیا، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا۔ دوسری جانب ایک امریکی اہلکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیاں اس معاہدے کے تحت عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔ادھر Israel نے بھی اس عارضی جنگ بندی سے اتفاق کر لیا ہے، جس کی تصدیق اسرائیلی میڈیا اور وائٹ ہاؤس حکام کی جانب سے کی گئی ہے۔ اس پیشرفت کے بعد فوری طور پر بڑے پیمانے پر جنگ کے خدشات میں کمی آئی ہے۔
۔ اس فیصلے کو پاکستان سمیت کئی ممالک کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ یہ فیصلہ موجودہ حالات کا بغور جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج اپنے مقررہ فوجی اہداف حاصل کر چکی ہیں اور اس سے آگے بڑھنے کی فوری ضرورت نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ دو ہفتے صورتحال کا مزید جائزہ لینے اور سفارتی راستوں کو موقع دینے کے لیے اہم ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق، پاکستان نے حالیہ دنوں میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پسِ پردہ سفارتی رابطے تیز کیے تھے۔ اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ رابطے رکھ کر تصادم کو روکنے کی کوشش کی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی یہ کوششیں خطے میں امن کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ یہ اعلان وقتی ہے، لیکن اس سے خطے میں کشیدگی میں واضح کمی آ سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس دوران سفارتی پیش رفت ہوئی تو مکمل جنگ کے خدشات بھی ٹل سکتے ہیں۔