اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)تیل و گیس کے حالیہ بحران کے دوران آئل اور گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے پاکستان کے توانائی شعبے میں ایک بار پھر کامیابیوں کا سفر جاری رکھا ہے۔
کمپنی نے سندھ اور خیبرپختونخوا سے اہم گیس ذخائر دریافت کرنے کا اعلان کیا، اور ایک ہی دن میں پاکستان اور لندن سٹاک ایکسچینج کو خطوط بھیج کر اس کارنامے کی تصدیق کی۔
خط کے مطابق صوبہ سندھ کے ضلع خیرپور میں واقع سہتو-1 کنواں سے یومیہ 17.2 ملین مکعب فٹ گیس حاصل ہو رہی ہے۔ کنویں کی کھدائی 24 دسمبر 2025 کو شروع ہوئی تھی اور 3,870 میٹر گہرائی تک ڈرلنگ کے بعد یہ شاندار دریافت ہوئی۔ نئے ذخائر سے توقع ہے کہ ملک میں توانائی کے بحران میں کمی آئے گی اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا۔ سہتو-1 کنویں میں او جی ڈی سی ایل اور جی ایچ پی ایل مشترکہ پارٹنر ہیں۔
اسی دوران خیبرپختونخوا کے ٹاک بلاک میں واقع بلی ٹانگ ون کنواں سے بھی نئے گیس ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ یہاں سے یومیہ 26.5 ملین سٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس حاصل ہو رہی ہے۔ اس کنویں کی کھدائی 10 اگست 2025 کو شروع کی گئی اور 4,004 میٹر کی گہرائی تک ڈرلنگ کی گئی۔ کنویں سے حاصل گیس کا بہاؤ 4,214 پاؤنڈ فی مربع انچ ہے، اور یہ منصوبہ پی پی ایل، جی ایچ پی ایل اور ایم او ایل کی مشترکہ سرمایہ کاری ہے۔
یہ دریافتیں نہ صرف پاکستان کے توانائی بحران کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی بلکہ ملکی معیشت اور صنعت کے لیے بھی نئے مواقع فراہم کریں گی۔