اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) چین نے اپنی تیزی سے بڑھتی ہوئی معاشی اور ٹیکنالوجیکل ترقی پر امریکی خدشات کو
طنزیہ انداز میں اجاگر کرتے ہوئے ایک گانے کی ویڈیو شیئر کر دی ہے، جو سفارتی حلقوں اور سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ یہ ویڈیو امریکا میں قائم چینی سفارتخانے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ کی گئی، جس کا دورانیہ تقریباً 56 سیکنڈ ہے۔ویڈیو میں امریکا کی علامت سمجھے جانے والے باز (ایگل) کو دکھایا گیا ہے جو چین کی بڑھتی ہوئی طاقت اور ترقی کو دیکھ کر پریشانی اور بے چینی کا شکار نظر آتا ہے۔ اس کے مقابلے میں چین کو ایک محنتی اور پرعزم پانڈا کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو مسلسل ترقی کے سفر میں مصروف ہے۔
📢 Breaking news: Another "#China shock” pic.twitter.com/5uMWrStZgn
— Chinese Embassy in US (@ChineseEmbinUS) January 7, 2026
گانے کی ویڈیو میں پانڈا کو جدید ٹیکنالوجی، سولر پینلز کی تیاری، الیکٹرک گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ اور خلائی پروگرام، خصوصاً راکٹ لانچنگ جیسے منصوبوں پر کام کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس علامتی انداز کے ذریعے چین نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ اس کی ترقی محض محنت، منصوبہ بندی اور جدت کا نتیجہ ہے، نہ کہ کسی کے لیے خطرہ۔گانے کے بول خاص طور پر امریکی بیانیے پر طنز کرتے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ جب امریکا ترقی کرتا ہے تو اسے “پروگریس” یا مثبت پیش رفت قرار دیا جاتا ہے، لیکن جب چین ترقی کرتا ہے تو اسے “اوور کیپیسٹی” یا عالمی معیشت کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ گانے میں اس تضاد کو واضح طور پر چیلنج کیا گیا ہے اور سوال اٹھایا گیا ہے کہ ترقی کے پیمانے مختلف ممالک کے لیے مختلف کیوں ہیں۔
یہ ویڈیو انگریزی زبان میں ہے جبکہ اس کے ساتھ چینی زبان میں سب ٹائٹلز بھی شامل کیے گئے ہیں، تاکہ پیغام کو وسیع تر عالمی ناظرین تک پہنچایا جا سکے۔ اندازِ پیشکش کو سفارتی طنزیہ میم کہا جا رہا ہے، جو روایتی سفارتی بیانات کے بجائے جدید اور تخلیقی طریقے سے چین کے مؤقف کو سامنے لاتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ویڈیو چین اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی، تجارتی اور ٹیکنالوجیکل مقابلے کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکا کی جانب سے چین پر اضافی ٹیرف، تجارتی پابندیاں اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سختیاں عائد کی گئی ہیں، جنہیں چین اپنی ترقی روکنے کی کوشش قرار دیتا ہے۔
چینی سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو کا مقصد محاذ آرائی نہیں بلکہ عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ چین کی ترقی تعاون، جدت اور پائیدار ترقی پر مبنی ہے، اور اسے خوف یا خطرے کے طور پر پیش کرنا غیر منصفانہ ہے۔سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو ملے جلے ردعمل کا سامنا ہے، جہاں کچھ صارفین اسے ذہین اور تخلیقی سفارتکاری قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض اسے امریکا کے خلاف کھلا طنز اور سفارتی دباؤ کی نئی شکل قرار دے رہے ہیں۔ تاہم، یہ واضح ہے کہ چین نے اس مختصر مگر معنی خیز ویڈیو کے ذریعے عالمی سطح پر جاری بیانیے کو چیلنج کرنے کی کوشش کی ہے۔