اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے علاقے مونٹریال ویسٹ میں ایک مصروف اور خطرناک چوراہے پر بالآخر کراسنگ گارڈ تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جہاں طویل عرصے سے حادثات کی شکایات سامنے آ رہی تھیں۔
ویسٹ منسٹر ایونیو ساؤتھ اور آئنسلی روڈ کا یہ چوراہا خاص طور پر طلبہ کے لیے خطرناک سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہاں ٹریفک کا دباؤ زیادہ ہے اور حفاظتی انتظامات ناکافی رہے ہیں۔
یہ معاملہ اُس وقت زیادہ سنگین بن گیا جب نومبر دو ہزار چوبیس میں رائل ویسٹ اکیڈمی کے چودہ سالہ طالب علم چارلی شین کو اسکول جاتے ہوئے ایک گاڑی نے ٹکر مار دی۔ خوش قسمتی سے وہ اس حادثے میں محفوظ رہے، تاہم اس واقعے نے والدین اور مقامی افراد میں شدید تشویش پیدا کر دی۔
حکام کے مطابق سات اپریل سے اس مقام پر عارضی طور پر کراسنگ گارڈ تعینات کیا جائے گا، جو تعلیمی سال کے اختتام تک اپنی ذمہ داریاں انجام دے گا۔ تاہم یہ سہولت اگلے تعلیمی سال یعنی دو ہزار چھبیس تا دو ہزار ستائیس کے لیے جاری نہیں رکھی جائے گی، جس پر والدین نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
فروری میں صورتحال مزید خراب ہو گئی جب دو مزید طلبہ اسی علاقے میں گاڑی کی زد میں آ گئے۔ تیرہ سالہ صوفیہ ملبرانٹ اپنے ایک دوست کے ساتھ قریبی ریلوے اسٹیشن سے واپس آ رہی تھیں کہ ایک گاڑی، جو جنوب کی جانب جا رہی تھی، چوراہے پر رکی۔ ان کے مطابق ڈرائیور نے شاید انہیں دیکھا نہیں اور اچانک گاڑی آگے بڑھا دی، جس کے نتیجے میں دونوں بچے زخمی ہو گئے۔
صوفیہ کے دائیں پاؤں پر چوٹ آئی، جس کا علاج اسپتال میں کیا گیا، مگر اب بھی انہیں سیڑھیاں چڑھنے اور اترنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ اس واقعے نے والدین کی تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔
رائل ویسٹ اکیڈمی کی والدین کمیٹی کی نمائندہ جوانا ڈوئی کا کہنا ہے کہ بچے روزانہ انتہائی مصروف سڑک عبور کرتے ہیں جہاں نہ کوئی ٹریفک سگنل ہے اور نہ ہی مناسب حفاظتی انتظام۔ ان کے مطابق طلبہ کو صرف گاڑیوں کے رکنے پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جو ایک خطرناک صورتحال ہے۔
مقامی والدین کا مطالبہ ہے کہ عارضی اقدامات کے بجائے مستقل بنیادوں پر حفاظتی نظام قائم کیا جائے، جس میں ٹریفک سگنلز، رفتار کم کرنے کے اقدامات اور مستقل کراسنگ گارڈ شامل ہوں، تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔