اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز) اتوار کی دوپہر ٹورنٹو کی رہائشی سرینا میک کے لیے لیک شور ایسٹ جی او ٹرانزٹ ٹرین کا سفر بظاہر پرسکون آغاز کے ساتھ ہوا، مگر تقریباً 30 منٹ بعد اچانک ایک کتے کے بھونکنے سے خاموشی ٹوٹ گئی۔
سرینا میک کے مطابق، ٹرین میں مسافر کم تھے اور وہ ڈینفورتھ سے اوشاوا اپنے اہلِ خانہ سے ملنے جا رہی تھیں۔ ابتدا میں وہ گھبرا گئیں، مگر جلد ہی انہیں اندازہ ہو گیا کہ یہ ایک سروس ڈاگ ہے جو اپنے مالک کو دورہ (سیزر) پڑنے کی اطلاع دے رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ فوراً اس خاتون کے پاس پہنچیں اور دیکھا کہ وہ شدید تکلیف میں ہیں، جس کے بعد انہوں نے جی او ٹرانزٹ کے ایمرجنسی الارم کو فعال کر دیا۔ ان کے بقول، اعلان اور تیز آواز سے انہیں یقین ہو گیا کہ الارم درست طریقے سے دبایا جا چکا ہے۔
اسی دوران انہوں نے 911 پر کال کی اور گفتگو کے دوران محسوس کیا کہ ٹرین وِٹبی جی او اسٹیشن پر پہنچنے والی ہے۔ انہوں نے ایمرجنسی سروسز کو ہدایت دی کہ پیرامیڈکس کو وِٹبی اسٹیشن بھیجا جائے۔
تاہم، مختصر رُکنے کے بعد حیران کن طور پر ٹرین دوبارہ چل پڑی۔ سرینا میک کے مطابق، انہیں 911 پر دوبارہ اطلاع دینی پڑی کہ اب پیرامیڈکس کو اگلے اسٹیشن اوشاوا بھیجا جائے۔
اسی وقت ٹرین کے ایک عملے کے رکن نے آ کر صورتحال پوچھی، جس پر میک نے واضح طور پر بتایا کہ ایک خاتون کو دورے پڑ رہے ہیں اور ٹرین کو فوری طور پر روکنا چاہیے۔ بعد ازاں عملے کا رکن فرسٹ ایڈ کٹ اور ڈیفبریلیٹر لے کر آیا، مگر اس وقت تک خاتون کچھ حد تک ہوش میں آ چکی تھیں۔
ٹرین کے اوشاوا پہنچنے سے پہلے خاتون کو دوسرا دورہ پڑا۔ میک ان کے ساتھ رہیں اور اوشاوا اسٹیشن پر پہنچنے پر انہیں ٹرین سے اتارا، جہاں جی او ٹرانزٹ کا عملہ موجود تھا اور بعد میں پیرامیڈکس پہنچ گئے۔
بعد ازاں میک نے عملے سے سوال کیا کہ وِٹبی اسٹیشن پر ٹرین کیوں نہیں روکی گئی، جس پر انہیں جواب ملا کہ اس حوالے سے کسی سے رابطہ کریں۔ انہوں نے متعدد بار کالز اور ای میلز کیں اور آخرکار تقریباً دو ہفتے بعد، میٹرولنکس بورڈ تک معاملہ پہنچانے کے بعد انہیں جواب ملا۔
میک کے مطابق، گفتگو میں یہ تسلیم کیا گیا کہ رابطے میں کچھ خلا موجود تھے، تاہم ادارے کی پالیسی کے تحت بعض ہنگامی حالات میں ٹرین کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ ٹرین کے چلنے سے پہلے عملے کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ ایمرجنسی کی نوعیت کیا ہے، جو قابلِ قبول نہیں۔
یہ بھی پڑھیں :کیلگری ٹرانزٹ ویک اینڈ پر پائلٹ پروجیکٹ کے تحت دواضافی ٹرینیں چلائے گا
میٹرولنکس، جو جی او ٹرانزٹ کی نگرانی کرنے والا صوبائی ادارہ ہے، نے بیان میں کہا کہ واقعے کی مکمل جانچ کی گئی اور ہنگامی ردِعمل کے طے شدہ طریقہ کار پر عمل کیا گیا، جس میں کنٹرول سینٹر کو فوری اطلاع اور ایمرجنسی سروسز کے ساتھ رابطہ شامل تھا۔ ادارے نے سرینا میک کے بروقت اقدام، حوصلے اور قیادت کو بھی سراہا۔
تاہم، میک کا کہنا ہے کہ وہ تعریف کی خواہش مند نہیں بلکہ چاہتی ہیں کہ ہنگامی ردِعمل کی پالیسی پر نظرِثانی کی جائے۔ ان کے مطابق اگرچہ خاتون کو مدد مل گئی، مگر صورتحال کہیں زیادہ سنگین بھی ہو سکتی تھی۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ واقعے کے بعد کسی نے ان سے باقاعدہ رابطہ کر کے تفصیلات معلوم نہیں کیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ میٹرولنکس کو ہنگامی الارمز سے متعلق تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ مارچ میں بھی یونین اسٹیشن جانے والی ایک ٹرین میں طبی ہنگامی صورتحال کے دوران مسافروں نے بروقت کارروائی نہ ہونے کی شکایت کی تھی۔
سرینا میک کا کہنا ہے کہ وہ پبلک ٹرانزٹ کو پسند کرتی ہیں اور استعمال کرتی رہیں گی، مگر آواز اس لیے اٹھا رہی ہیں تاکہ آئندہ کسی اور کو ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کے بقول، وہ اس لمحے خود کو اکیلا محسوس کر رہی تھیں اور عملے کی جانب سے مؤثر مدد نہ ہونے پر شدید تشویش ہوئی۔