اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا کے شہر ایڈمنٹن کے ایک بڑے ہسپتال میں پیش آنے والے پرتشدد واقعے نے مریضوں اور طبی عملے کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
صوبائی وزیر برائے ہسپتال، میٹ جونز کے مطابق جمعہ کی شام ایک مریض نے ایمرجنسی وارڈ میں دوسرے مریض پر حملہ کر دیا، جس کے بعد اسے فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔
یہ واقعہ رائل الیگزینڈرا ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں پیش آیا، جہاں پولیس اور ہسپتال کے عملے نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کیا۔ وزیر نے بتایا کہ متعلقہ اداروں کی فوری مداخلت نے نہ صرف مزید نقصان کو روکا بلکہ زخمی مریض کو بروقت طبی امداد بھی فراہم کی گئی۔
پولیس کے مطابق شام تقریباً چھ بج کر پندرہ منٹ پر ہسپتال میں پہلے سے موجود گشتی اہلکاروں نے دو افراد کو لڑتے ہوئے دیکھا اور فوراً مداخلت کی۔ اس جھگڑے میں 42 سالہ شخص شدید زخمی ہوا، جس کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ پولیس نے حملہ آور کے قبضے سے تین نوکیلے ہتھیار بھی برآمد کیے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے اس واقعے میں دیگر مریضوں، تیمارداروں یا طبی عملے کو کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچا، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔ ملزم کے خلاف ہتھیار کے ساتھ حملہ اور عدالتی شرائط کی خلاف ورزی سمیت متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعت کی رہنما سارہ ہوفمین نے اس واقعے کو انتہائی خوفناک قرار دیا۔ ان کے مطابق اس حملے کے وقت تقریباً پچاس افراد، جن میں ڈاکٹرز، نرسیں اور مریض شامل تھے، موقع پر موجود تھے اور سب نے شدید خوف کا سامنا کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حملے میں ایک مریض کو چاقو مارا گیا اور حکومت کو فوری طور پر ہسپتالوں کی سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔
وزیر میٹ جونز نے اس تنقید کے جواب میں کہا کہ حکومت پہلے سے منظور شدہ سکیورٹی منصوبے پر تیزی سے عملدرآمد کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ہسپتال میں سکیورٹی عملے کی تعداد بڑھا دی گئی ہے اور ہتھیاروں کی جانچ کے لیے جدید نظام متعارف کروانے کی تیاری جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے مریضوں اور طبی عملے کو اضافی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
یہ واقعہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہسپتال جیسے حساس مقامات پر سکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے اور عوام کا اعتماد بحال رکھا جا سکے۔