وفاقی بجٹ کی راہ ہموار، پی ایس ڈی پی میں کٹوتی اور مالیاتی فیصلوں پر حکومت و اتحادیوں میں اتفاق

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان ملاقات کے بعد وفاق اور صوبائی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں کٹوتی پر اتفاق ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی منظوری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی کا اجلاس آج شام پانچ بجے اور سینیٹ کا اجلاس شام چار بجے طلب کرنے کی منظوری دے دی ہے، جہاں بجٹ سے متعلق اہم فیصلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے مجوزہ ترقیاتی پروگرام میں ایک سو چھبیس ارب روپے کی کٹوتی کی ہے۔ اس فیصلے کے بعد بلوچستان کے علاوہ باقی تین صوبے بھی اپنے ترقیاتی اخراجات میں کمی کریں گے۔ اس کٹوتی سے مجموعی طور پر پانچ سو ارب روپے کی بچت متوقع ہے، جسے اسٹریٹجک اہمیت کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام میں کٹوتی کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاق نے صوبوں سے قابلِ تقسیم محاصل کے تحت تقریباً بارہ سو ارب روپے اضافی وسائل کی درخواست کی تھی، تاہم اب مالی توازن کے لیے مختلف فارمولوں پر غور کیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ترقیاتی پروگرام میں کوئی کٹوتی نہیں کی جائے گی، جبکہ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا اپنے اپنے ترقیاتی بجٹ میں کمی کریں گے۔ پنجاب کے ترقیاتی اخراجات میں ایک سو پچاس ارب روپے تک کمی کا امکان ہے، جبکہ سندھ اور خیبرپختونخوا بھی اپنے منصوبوں کو محدود کر سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر صوبے وفاق کو مزید مالی گنجائش فراہم کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو وفاقی ترقیاتی پروگرام کو ایک ہزار ارب روپے سے بڑھا کر تقریباً ایک ہزار چار سو ارب روپے تک کیا جا سکتا ہے۔ اضافی رقم پانی کے بڑے منصوبوں جیسے دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم اور داسو ڈیم پر خرچ کرنے کی تجویز ہے، جبکہ باقی حصہ دفاعی نوعیت کے منصوبوں کے لیے مختص کیا جائے گا۔

قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس آج وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقد ہو رہا ہے جس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوں گے۔ اجلاس میں ترقیاتی اہداف، بجٹ حجم اور پالیسی فریم ورک پر حتمی فیصلے متوقع ہیں۔

ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات سے دس فیصد اضافے کی تجویز ہے، جبکہ اتحادی جماعتوں کے دباؤ کی صورت میں یہ اضافہ پندرہ فیصد تک بھی جا سکتا ہے۔

حکومت کارپوریٹ سیکٹر کو ریلیف دینے، سپر ٹیکس میں کمی یا خاتمے، اور برآمد کنندگان کے لیے مراعات جیسے اقدامات پر بھی غور کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ نئے ٹیکس اقدامات اور کرپٹو کرنسی سے حاصل آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔

معاشی اہداف کے مطابق آئندہ سال شرح نمو چار فیصد جبکہ مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد تک رکھنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ بجٹ میں مالیاتی استحکام اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں آئندہ دنوں میں بجٹ مسودے، تنخواہوں میں اضافے اور ٹیکس اصلاحات کی حتمی منظوری دی جائے گی، جس کے بعد بجٹ پیش کرنے کا مرحلہ مکمل ہوگا۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں