ایران کیخلاف جنگ، امریکہ میں ٹرمپ مخالف تاریخی مظاہرے،لاکھوں افرادسڑکوں پر نکل آئے

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے خلاف ملک بھر میں “نو کنگز” (No Kings) کے نام سے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے

جنہیں منتظمین امریکی تاریخ کے بڑے عوامی مظاہروں میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔منتظمین کے مطابق ملک کی تمام 50 ریاستوں میں 3,100 سے زائد احتجاجی تقریبات رجسٹر کی گئی ہیں، جبکہ اندازہ ہے کہ 90 لاکھ سے زیادہ افراد ان مظاہروں میں شرکت کریں گے۔ یہ مظاہرے نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں سینکڑوں مظاہرین لنکن میموریل سے ہوتے ہوئے نیشنل مال تک مارچ کرتے رہے۔ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت مخالف نعرے درج تھے، جبکہ ڈھول، گھنٹیاں بجا کر اور “نو کنگز” کے نعرے لگا کر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔
ان مظاہروں کی بنیادی وجوہات میں ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ، امیگریشن کے سخت قوانین، اور ٹرانس جینڈر حقوق میں کمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ خاص طور پر ریاست مِنیسوٹا کو اس تحریک کا مرکز قرار دیا جا رہا ہے، جہاں وفاقی ایجنٹس کی کارروائیوں کے بعد عوامی ردعمل شدت اختیار کر گیا۔نیویارک میں نیو یارک سول لبرٹیز یونین کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈونا لیبرمین نے صدر ٹرمپ کو “ملک کا غنڈہ سربراہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کو خوفزدہ کرنا چاہتی ہے، مگر عوام اب خاموش نہیں رہیں گے۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان مظاہروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بائیں بازو کی مہم قرار دیا ہے۔ صدارتی ترجمان ابیگیل جیکسن نے کہا کہ یہ احتجاج عوامی حمایت کے بغیر صرف مخصوص حلقوں کی سرگرمی ہیں۔
اسی طرح نیشنل ریپبلکن کانگریشنل کمیٹی نے بھی ان مظاہروں پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں “امریکہ مخالف ریلیاں” قرار دیا۔مِنیسوٹا کے دارالحکومت سینٹ پال میں ہونے والا مرکزی اجتماع اس تحریک کا سب سے بڑا مظاہرہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ایک لاکھ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔ اس موقع پر معروف گلوکار بروس اسپرنگسٹین، گلوکارہ جون بایز، اداکارہ جین فونڈا اور سینیٹر برنی سینڈرز سمیت کئی اہم شخصیات شرکت کریں گی۔یہ احتجاج عالمی سطح پر بھی پھیل چکا ہے۔ پیرس، روم اور لندن سمیت مختلف شہروں میں بھی مظاہرے کیے جا رہے ہیں، جہاں شرکاء نے جنگ کے خلاف اور انسانی حقوق کے حق میں نعرے بلند کیے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مظاہرے اس بات کی علامت ہیں کہ امریکی عوام کی بڑی تعداد حکومتی پالیسیوں، خصوصاً خارجہ امور اور داخلی اقدامات پر شدید تحفظات رکھتی ہے۔ اگر یہ احتجاجی سلسلہ جاری رہا تو اس کے اثرات آنے والے سیاسی منظرنامے اور پالیسی سازی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں