اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) حال ہی میں شائع ہونے والی ایک امریکی تحقیق نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ مسوڑھوں کی بیماری (Gum Disease) انسان میں فالج (Stroke) کے خطرے کو 86 فیصد تک بڑھا سکتی ہے۔
یہ اعداد و شمار نہ صرف طبی دنیا کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں بلکہ عام عوام کے لیے بھی ایک واضح انتباہ ہیں کہ منہ کی صفائی کو معمولی سمجھنا دراصل اپنی مجموعی صحت کو خطرے میں ڈالنا ہے۔تحقیق کے مطابق جن افراد کو مسوڑھوں کی بیماری کے ساتھ دانتوں میں کیڑا (Cavity) بھی ہوتا ہے، ان میں خون کے لوتھڑے کے باعث ہونے والے دماغی فالج کا خطرہ دو گنا سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ مزید برآں، مسوڑھوں کی بیماری دماغ کے سفید حصے (White Matter) کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جو الزائمر اور ڈیمینشیا جیسے امراض کا باعث بنتی ہے۔
یہ نتائج اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ منہ کی صفائی صرف مسکراہٹ کو خوبصورت بنانے کے لیے نہیں بلکہ دل، دماغ اور پورے جسم کی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ میں کیے گئے سروے کے مطابق صرف 30 فیصد لوگ روزانہ فلاسنگ کرتے ہیں، جب کہ یہی غفلت آگے چل کر جان لیوا بیماریوں کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ہماری معاشرت میں بھی دانتوں کی صحت کو اکثر غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ لوگ دانت میں درد یا مسوڑھوں کی سوجن کو وقتی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہی معمولی سمجھا جانے والا مسئلہ عمر بھر کی معذوری یا دماغی بیماری میں تبدیل ہو سکتا ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صحت کے تصور کو محدود نہ رکھیں۔ دانتوں اور مسوڑھوں کی صفائی کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا، بروقت دندان ساز سے معائنہ کروانا اور بچوں میں یہ عادت ڈالنا ہمارے مستقبل کی صحت کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔