اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھارت میں کرسمس کے موقع پر اقلیتوں کے خلاف توڑ پھوڑ اور تشدد کے واقعات کی سخت مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں پر مظالم انتہائی تشویشناک ہیں اور کرسمس کے دوران پیش آنے والے واقعات ریاستی سرپرستی میں ہوئے، جس سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ظاہر ہوتی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت میں ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی مسلمان برادری میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے اقدامات کرے اور بھارت میں ہونے والے مظالم پر نوٹس لے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، 25 دسمبر کو مختلف علاقوں میں کرسمس کی تقریبات کو ہندوتوا سے منسلک انتہا پسند عناصر نے نشانہ بنایا۔ متعدد مقامات پر مسیحی برادری کی مذہبی تقریبات میں مداخلت ہوئی اور سجاوٹ کو نقصان پہنچایا گیا۔ ساؤتھ ایشیا ٹائمز کے مطابق ریاست آسام کے ضلع نلباڑی میں سینٹ میری سکول کو نقصان پہنچا، جبکہ پانیگاؤں میں بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد سے منسلک افراد پر ہنگامہ آرائی کے الزامات سامنے آئے۔
چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں میگنیٹو مال کی کرسمس سجاوٹ کو نقصان پہنچایا گیا اور کیرالہ کے ضلع پالکّاڈ میں بچوں کے کرسمس کیرول گروپ پر حملے کی بھی اطلاع ملی، جس کا الزام آر ایس ایس کے کارکن پر ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں، خاص طور پر مسلم اور مسیحی برادری کے خلاف پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر اقلیتوں کی حفاظت اور مذہبی آزادی کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ وزارت خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات کا فوری نوٹس لیا جائے اور مناسب اقدامات کیے جائیں۔