اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) راولپنڈی ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم ناقص بیٹنگ کے باعث جنوبی افریقہ کو صرف 68 رنز کا ہدف دینے میں کامیاب رہی جو افریقی ٹیم نے 2 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔
پنڈی ٹیسٹ میں آج چوتھے دن کے کھیل کے آغاز سے ہی قومی ٹیم مشکلات کا شکار رہی اور پہلے سیشن میں ہی ایک کے بعد ایک وکٹیں گرنا شروع ہوگئیں۔آج کھیل کے آغاز میں پاکستان کی جانب سے بابر اعظم 50 رنز بنا کر پہلے آؤٹ ہوئے جس کے بعد دیگر بلے باز بھی کچھ دیر بعد پویلین لوٹ گئے اور محمد رضوان 18 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔اس کے بعد سلمان علی آغا نے 28 اور ساجد خان نے 13 رنز بنائے جب کہ نعمان علی اور شاہین آفریدی صفر رنز پر آؤٹ ہوئے، آصف آفریدی صفر رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔پاکستان نے جنوبی افریقہ کو جیت کے لیے 68 رنز کا ہدف دیا ہے۔جنوبی افریقہ کی جانب سے سیمن ہارمر نے 6، کیشو مہراج نے 2 اور کگیسو ربادا نے ایک وکٹ حاصل کی۔دوسری اننگز میں جنوبی افریقہ نے 68 رنز کا ہدف 2 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔جنوبی افریقہ کی جانب سے دوسری اننگز میں ایڈم مارکرم 42 رنز بنا کر ٹرسٹن سٹبز صفر رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، ریان رکلیٹن 25 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر رہی۔یاد رہے کہ پاکستان نے پہلی اننگز میں 333 رنز بنائے تھے جس کے جواب میں مہمان ٹیم نے 404 رنز بنائے تھے۔
جبکہ پاکستان کے ٹاپ آرڈر کی ناکامی کے بعد میزبان ٹیم مشکلات میں گھِر گئی ہے۔پاکستان نے دوسری اننگز کا آغاز 71 رنز کے خسارے سے کیا، مگر ابتدائی بلے باز ایک بار پھر بری طرح ناکام رہے۔ اوپنر امام الحق 9عبداللہ شفیق 6 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جب کہ کپتان شان مسعود بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔ابتدائی تین وکٹیں صرف 16 رنز پر گرنے کے بعد میچ جنوبی افریقہ کے مکمل کنٹرول میں دکھائی دینے لگا۔
چوتھی وکٹ پر بابر اعظم اور سعود شکیل نے 44 رنز کی شراکت قائم کر کے ٹیم کو کچھ سہارا دیا، تاہم سعود شکیل صرف 11 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔دن کے اختتام پر پاکستان نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 94 رنز بنائے تھے اور مجموعی طور پر 23 رنز کی معمولی برتری حاصل کر رکھی تھی۔کریز پر بابر اعظم 49 رنز اور محمد رضوان 16 رنز کے ساتھ موجود ہیں۔
جنوبی افریقہ کے اسپنر سائمن ہارمر نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3 وکٹیں حاصل کیں، جب کہ کگیسو ربادا نے ایک وکٹ اپنے نام کی۔پاکستانی بلے باز ہارمر کی اسپن اور فلائٹ کا مؤثر جواب نہ دے سکے، خاص طور پر امام اور شان مسعود ان کی چالوں میں پھنس گئے۔
اس سے قبل جنوبی افریقہ نے تیسرے دن کا آغاز 185 رنز 4 کھلاڑی آؤٹ سے کیا۔چوتھی گیند پر ہی کائل ویرین کو محمد رضوان نے آصف آفریدی کی گیند پر کیچ کر کے آؤٹ کر دیا۔ ٹریسٹن اسٹبس نے 76 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی، جب کہ سائمن ہارمر صرف 2 رنز بنا سکے۔
تاہم، اس کے بعد ڈیبیو کرنے والے آصف آفریدی کی نپی تلی بولنگ کے باوجود، جنوبی افریقہ کے نچلے آرڈر نے حیران کن مزاحمت دکھائی۔سینوران متھوسامی (Senuran Muthusamy) نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 89 رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔
انہوں نے پہلے کیشو مہاراج (30) کے ساتھ نویں وکٹ پر 71 رنز کی شراکت قائم کی، اور پھر ربادا (71) کے ساتھ دسویں وکٹ پر 98 رنز کی یادگار پارٹنرشپ جوڑی۔
پاکستان کی جانب سے آصف آفریدی نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 6 وکٹیں حاصل کیں۔وہ پاکستان کے دوسرے لیفٹ آرم اسپنر بن گئے ہیں جنہوں نے اپنے ڈیبیو میچ میں پانچ یا زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔ نعمان علی نے 2، جب کہ شاہین شاہ آفریدی اور ساجد خان نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔جنوبی افریقہ کی ٹیم 04 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی، جس کے نتیجے میں اسے پاکستان پر 71 رنز کی برتری حاصل ہوئی۔پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں 333 رنز بنائے تھے۔اگر آج چوتھے دن پاکستان کے بلے باز ڈٹ کر بیٹنگ نہ کر سکے تو شکست کے بادل قومی ٹیم پر گہرے ہوتے جائیں گے۔میچ کا پانسہ اب بابر اعظم کی ذمہ دارانہ اننگز پر منحصر ہے — وہی پاکستان کے لیے امید کی آخری کرن ہیں۔