اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جہاں جمعہ تک فی لیٹر قیمت میں تقریباً گیارہ سے بارہ سینٹ تک کمی متوقع ہے۔ یہ پیش رفت امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر فوری اثر ڈالا ہے۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق یہ دو ہفتوں کی جنگ بندی اس شرط سے منسلک تھی کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا۔ یہ اہم آبی گزرگاہ دنیا بھر کے تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے، کیونکہ پرامن حالات میں عالمی تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اگرچہ ایران نے ابتدا میں اس راستے کو کھول دیا تھا، تاہم بدھ کے روز لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کے ردعمل میں اسے دوبارہ بند کر دیا گیا۔
ایران کی جانب سے اس آبی راستے پر کنٹرول اور خطے میں توانائی کے ڈھانچے پر حملوں نے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا، جس کے اثرات کینیڈا سمیت مختلف ممالک میں دیکھے گئے۔ اوٹاوا میں اس وقت گیس کی قیمت ایک سو اٹھاسی اعشاریہ نو سینٹ فی لیٹر ہے، جو جمعرات کو کم ہو کر ایک سو چھیاسی اعشاریہ نو سینٹ تک آنے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی خام تیل کی قیمت میں فی بیرل اٹھارہ ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے، جو گیس کی قیمتوں میں کمی کا سبب بن رہی ہے۔ تاہم یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ یہ کمی عارضی ثابت ہو سکتی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ایک ماہر نے کہا کہ قیمتوں میں کمی کا انحصار جنگ بندی کی مضبوطی پر ہوگا۔ اگر یہ معاہدہ دیرپا ثابت نہ ہوا اور کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی تو گیس کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا سکتی ہیں۔