اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا کی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ڈاکٹروں پر اخراجات میں بیس فیصد سے زیادہ اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔
صوبے کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے بتایا کہ حکومت آنے والے مالی سال میں معالجین پر 7 اعشاریہ 7 ارب ڈالر خرچ کرے گی، جو موجودہ رقم سے تقریباً 1 اعشاریہ 4 ارب ڈالر زیادہ ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حکومت کو اربوں ڈالر کے ممکنہ خسارے کا سامنا ہے اور آئندہ بجٹ خسارے کے ساتھ پیش کیے جانے کی توقع ہے۔
حکومت کے مطابق اضافی رقم کا بڑا حصہ براہِ راست ڈاکٹروں کی تنخواہوں اور مراعات کے لیے مختص ہوگا، جبکہ 45 کروڑ ڈالر نئے معالجین کی بھرتی اور انہیں صوبے میں خدمات انجام دینے کی ترغیب دینے کے لیے رکھے گئے ہیں۔ وزیرِاعلیٰ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت چاہتی ہے کہ البرٹا کو معالجین کے لیے بہترین مقام کے طور پر برقرار رکھا جائے اور مسابقتی معاوضے کے ذریعے انہیں مکمل تعاون فراہم کیا جائے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس بڑے مالی اضافے کے بعد صوبے میں رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی تعداد آبادی میں اضافے کے تناسب سے بڑھتی رہے گی، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ شہری اس وقت صحت کی سہولیات پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور طویل انتظار جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔
اپوزیشن کی تنقید اور تیل کی قیمتوں سے پیدا ہونے والا مالی دباؤ
صوبائی وزیر برائے بنیادی و احتیاطی صحت ایڈریانا لاگرانج نے بتایا کہ اس وقت صوبے میں رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی تعداد 13 ہزار تک پہنچ چکی ہے، جو ایک تاریخی بلند ترین سطح ہے۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت صحت کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعت البرٹا نیو ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما نہید نینشی اور صحت کے شعبے کے ناقد شریف حاجی نے حکومتی اعلان پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فنڈنگ میں اضافے کے باوجود یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کتنے نئے ڈاکٹر تعینات کیے جائیں گے اور آیا اس اقدام سے انتظار کے دورانیے میں حقیقی کمی آئے گی یا نہیں۔ اپوزیشن کے مطابق موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد فی کس ڈاکٹروں کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔
حکومت پہلے ہی اشارہ دے چکی ہے کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کے باعث صوبے کو نمایاں مالی خسارے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ خام تیل کے معیار ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں کمی نے صوبائی خزانے پر دباؤ بڑھایا ہے۔ گزشتہ تخمینوں کے مطابق موجودہ مالی سال میں 6 اعشاریہ 4 ارب ڈالر تک خسارہ ہو سکتا ہے۔ وزیرِاعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ حکومت ٹیکسوں میں اضافہ یا بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کا ارادہ نہیں رکھتی، تاہم مالی دباؤ بدستور برقرار ہے اور صحت کے شعبے میں اخراجات بڑھانے کا فیصلہ انہی حالات کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔