البرٹا کے رکنِ پارلیمنٹ کی لبرل پارٹی میں شمولیت، وزیرِاعظم مارک کارنی کا خیرمقدم

اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے تحت صوبہ البرٹا سے تعلق رکھنے والے کنزرویٹو رکنِ پارلیمنٹ نے لبرل پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے، جس کے بعد حالیہ مہینوں میں حکمران جماعت میں شامل ہونے والے کنزرویٹو اراکین کی تعداد تین ہو گئی ہے۔

ایڈمنٹن ریوربینڈ سے منتخب رکنِ پارلیمنٹ میٹ جینرو (Matt Jeneroux) نے یہ فیصلہ اس اعلان کے صرف تین ماہ بعد کیا جب انہوں نے اچانک ہاؤس آف کامنز سے مستعفی ہونے کا عندیہ دیا تھا۔ وزیرِاعظم Mark Carney نے بدھ کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ان کی لبرل کاکس میں شمولیت کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیں :امریکہ کیساتھ اسی معاہدے پر دستخط کر ینگےجو کینیڈا کے لیے موزوں اور مفید ہوگا،مار ک کارنی

مارک کارنی نے لکھا کہ وہ میٹ جینرو کو کینیڈا کی نئی حکومت کے رکن کے طور پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک مضبوط، خودمختار اور مستحکم ملک کی تعمیر کے لیے عزم، باہمی تعاون اور بعض اوقات قربانی کی ضرورت ہوتی ہے، اور وہ جینرو اور ان کے خاندان کے شکر گزار ہیں کہ وہ پارلیمنٹ میں ایڈمنٹن ریوربینڈ کی نمائندگی جاری رکھیں گے۔

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ جینرو کو اقتصادی و سیکیورٹی شراکت داری کے خصوصی مشیر کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جینرو کی قیادت کینیڈا کے عالمی اتحادیوں اور تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے، عالمی سیکیورٹی تعاون میں کردار بڑھانے اور اندرونِ ملک استحکام کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگی۔ بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے ایڈمنٹن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ملاقات بھی کی۔

دوسری جانب کنزرویٹو پارٹی کے رہنما Pierre Poilievre نے اس اقدام کو ووٹرز کے ساتھ دھوکہ قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مارک کارنی پسِ پردہ معاہدوں کے ذریعے لبرل اکثریتی حکومت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ عوام نے گزشتہ انتخابات میں ایسی اکثریت کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

لبرلز اس وقت ایوان میں سادہ اکثریت سے ایک نشست کم پر ہیں۔ اس سے قبل Chrystia Freeland اور Bill Blair کے استعفوں اور سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد حکومتی پوزیشن کمزور ہوئی تھی، جس میں کیوبیک کی ایک نشست کا نتیجہ کالعدم قرار دیا گیا۔

میٹ جینرو 2015 سے ایڈمنٹن کی اس نشست کی نمائندگی کر رہے تھے۔ انہوں نے نومبر میں مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا، تاہم حتمی تاریخ نہیں دی تھی۔ ان کے فیصلے سے قبل نووا اسکاٹیا کے رکن Chris d’Entremont اور بعد ازاں اونٹاریو سے منتخب مائیکل ما نے بھی کنزرویٹو جماعت چھوڑ کر لبرلز میں شمولیت اختیار کی تھی۔

اپنے بیان میں جینرو نے کہا کہ خاندان، ساتھیوں اور حلقے کے عوام سے مشاورت کے بعد انہوں نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا۔ ان کے مطابق کینیڈا اس وقت غیر معمولی عالمی دباؤ، خودمختاری کو درپیش خطرات اور قومی اتحاد کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جس کے پیشِ نظر انہیں محسوس ہوا کہ یہ وقت مشکل مگر ضروری قیادت اور تعمیری تعاون کا تقاضا کرتا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں