اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) یونیورسٹی ہیلتھ نیٹ ورک کی جانب سے 28 رجسٹرڈ نرسوں کو ملازمت سے فارغ کیے جانے کے فیصلے نے کینیڈا کے صحت کے شعبے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ برطرفیاں زیادہ تر گردے کے مریضوں کے لیے قائم ہیمو ڈائلیسس یونٹ میں کی گئی ہیں، جہاں پہلے ہی مریضوں کا دباؤ زیادہ ہے۔تفصیلات کے مطابق اس اقدام پر اونٹاریو نرسز ایسوسی ایشن نے شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے اور اسے مریضوں کی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ یونین کے صدر ایرن ایرس نے خبردار کیا کہ نرسوں کی کمی کے باعث مریضوں کی دیکھ بھال متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً ان شعبوں میں جہاں مسلسل نگرانی اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیمو ڈائلیسس جیسے حساس شعبے میں عملے کی کمی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ اس علاج کے دوران مریضوں کو مسلسل طبی نگرانی درکار ہوتی ہے۔ نرسوں کی برطرفی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ہسپتال پہلے ہی مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، محدود وسائل اور طبی عملے کی تھکن جیسے مسائل سے دوچار ہے۔
یونین کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف عملے پر اضافی بوجھ ڈالے گا بلکہ مریضوں کے لیے خطرات میں بھی اضافہ کرے گا۔ دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات پر تفصیلی مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ مالی یا انتظامی دباؤ کے تحت کیا گیا ہو۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس طرح کے اقدامات جاری رہے تو کینیڈا کے صحت کے نظام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اور عوامی اعتماد بھی متاثر ہو سکتا ہے۔