اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی معاشی ٹیم کی جانب سے پیش کی گئی ٹیکس تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نہ تو منی بجٹ آئے گا اور نہ ہی سالانہ بجٹ قبل از وقت پیش کیا جائے گا۔
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق ریونیو میں کمی کو پورا کرنے کے لیے معاشی ٹیم نے کچھ تجاویز پیش کیں، جنہیں وزیراعظم نے مسترد کر دیا اور ہدایت کی کہ اس وقت کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا جائے بلکہ عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات پر توجہ مرکوز کی جائے۔
وزیراعظم نے مئی کے آخری ہفتے میں بجٹ پیش کرنے کی تجویز بھی رد کر دی اور معاشی ٹیم کو ہدایت کی کہ جون سے پہلے نہ ٹیکس اور نہ ہی منی بجٹ پیش کیا جائے۔
منی بجٹ کے ذریعے مختلف ٹیکس کی تجاویز پیش کی گئی تھیں، جن میں پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی شامل تھی۔ تاہم وزیراعظم نے کہا کہ تیل کی عالمی منڈی میں بڑھتے نرخوں کی وجہ سے عوام پہلے ہی پریشان ہیں، اس لیے مزید ٹیکس نہیں لگے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کشیدہ عالمی صورتحال میں بین الاقوامی مالیاتی ادارے کو ریلیف کے لیے قائل کیا جائے۔
علاوہ ازیں، وزیراعظم نے معاشی ٹیم کو آئندہ بجٹ میں عوامی ریلیف اقدامات شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ آئندہ بجٹ کی ترجیحات ملکی حالات کے مطابق تبدیل کی جا سکتی ہیں اور اس کے جون کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔