کینیڈا کی پارلیمان میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر بحث کی تجویز

اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا کی حکمران جماعت کے ایوانی رہنما اسٹیون میک کینن نے اعلان کیا ہے کہ وزیرِاعظم مارک کارنی کی حکومت نے پیر کی شام پارلیمان میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر بحث کروانے کی تجویز پیش کی ہے۔۔

یہ فیصلہ ہفتے کے اختتام پر وزراء کے ایک اہم اجلاس کے بعد سامنے آیا جس میں خطے میں جاری تنازع اور اس کے کینیڈین شہریوں پر ممکنہ اثرات پر غور کیا گیا۔

ایوانی رہنما اور وزیرِ ٹرانسپورٹ اسٹیون میک کینن نے اتوار کو سماجی رابطے کے ایک پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کو تجویز دی ہے کہ پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں ایران میں جاری جھڑپوں اور بیرونِ ملک موجود کینیڈین شہریوں کی صورتحال پر باضابطہ بحث کی جائے۔

اپوزیشن کی جماعتوں یعنی نیو ڈیموکریٹک پارٹی اور کنزرویٹو پارٹی کے ترجمانوں نے اتوار کے روز اس تجویز پر فوری طور پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔ اسی طرح وزیرِاعظم کے دفتر کی جانب سے بھی اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ آیا مارک کارنی اس مجوزہ بحث میں خود شرکت کریں گے یا نہیں۔

وزیرِاعظم کے دفتر کے مطابق اتوار کو مارک کارنی نے وزراء اور اعلیٰ حکام کے ساتھ ایک ہنگامی اجلاس بلایا جس میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ بیان کے مطابق اجلاس میں خاص طور پر اس بات پر توجہ دی گئی کہ خطے میں موجود کینیڈین شہریوں کی حفاظت کیسے یقینی بنائی جائے اور شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

وزیرِاعظم کے دفتر نے واضح کیا کہ کینیڈا کو ایران کے خلاف کارروائی کے بارے میں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی اور نہ ہی ملک نے اس کارروائی میں حصہ لیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی جانے والی فوجی کارروائیوں میں کینیڈا شامل نہیں ہے اور نہ ہی اس میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔

ایک الگ بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ مارک کارنی نے اتوار کی سہ پہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ اس گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے ساتھ ساتھ معیشت اور تجارت جیسے امور پر بھی بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا، تاہم گفتگو کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

دریں اثنا حکمران جماعت کے بعض ارکان نے گزشتہ ہفتے اس وقت بے چینی کا اظہار کیا تھا جب وزیرِاعظم نے اٹھائیس فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کی حمایت کا اظہار کیا۔ اس پر ردِعمل دیتے ہوئے عبوری رہنما ڈان ڈیویس نے حکومت کے مؤقف کو غیر اصولی، غیر واضح اور متضاد قرار دیا تھا۔

یاد رہے کہ ایران پر حملے کے بعد پورا مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے اور ایران نے بھی خطے میں مختلف مقامات پر امریکی اور اسرائیلی اہداف پر میزائل اور بغیر پائلٹ طیاروں کے ذریعے حملے کیے ہیں۔

کینیڈا کی حکومت کا کہنا ہے کہ خطے میں موجود اتحادی ممالک کی سلامتی اور خودمختاری کا تحفظ ضروری ہے، جبکہ ان کینیڈین شہریوں کی محفوظ واپسی کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے جو وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔

حکومتی اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ موجودہ صورتحال کے باعث کینیڈا کے اندر سلامتی کے خطرات کی نوعیت میں ممکنہ تبدیلی آ سکتی ہے، اس لیے ملکی سلامتی کے اداروں کو چوکنا رہنے اور حفاظتی اقدامات مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں